تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 372
۳۶۱ آگیا ہو۔بلکہ ہم تاریخوں میں یہی پڑھتے ہیں کہ فلاں مبلغ کو فلاں جگہ پھانسی دے دی گئی اور خلال مبلغ کو نسلاں جگہ قید کر دیا گیا۔ہمارے دوست اس بات پر خوش ہوا کرتے ہیں کہ صاحبزاد عبداللطیف صاحب شہیر نے سلسلہ کے لئے اپنی جان کو قربان کر دیا حالانکہ ایک عبد الطیف نہیں جماعت کو زندہ کرنے کے لئے سینکڑوں عبد اللطیف درکار ہیں جو مختلف ملکوں میں جائیں اور اپنی اپنی جانیں اسلام اور احمدیت کے لئے قربان کر دیں۔جب تک ہر مک اور ہر علاقہ میں عبد الطیف پیدا نہیں ہو جاتے اس وقت تک احمدیت کا رعب قائم نہیں ہو سکتا احمدیت کار شعب اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب سب لوگوں کو گھروں سے نکال کر ایک میدان میں قربانی کی آگ کے قریب کھڑا کر دیا جائے تا جب پہلی قربانی دینے والے قربانی دیں تو ان کے کچھ کر خود بخود آگ میں کودنا شروع کر دیں اور اسی ماحول کو پیارا کرنے کے لئے میں نے تحریک جدید جاری کی ہے ہے ریڈیو کے تعلق تر امیرالمونین کی ہم بھی ان کی موجودہ و اخلاق اور ریاض کے پھیلانے کی میں جین ایجاد وں کا براہ راست عمل دخل ہے اُن میں سینما اور ریڈیو خاص طور پر قابل ذکر ہیں سینما کی ایجاد مشہوری ئینسدان ایڈمین نے سر میں کی اور ریڈیو کا موجد مارکونی تھا جس نے شاہ میں یہ آلہ تیار کیا۔یہ دونوں اینجا دیں اپنی ذات میں بہت مفید تھیں، مگر جدید زمانہ کی نام نہاد تہذیب وتمدن نے انہی کو بے حیائی اور فحاشی کا ذریعہ بنا دیا جس کے ہولناک نتائج اب پوری دنیا کے سامنے کھل کر آ گئے ہیں۔پوری دنیا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی دوربین نگاہ نے مدتوں قبل ہی سینما کی شریعتی ہوئی رو کے عواقب واثرات بھانپ لئے تھے اسی لئے حضور نے ۱۹۳۳ء میں تحریک جدید کی بنیاد رکھتے ہوئے جماعت سے سینما بینی کو ترک کرنے کا مطالعہ فرمایا جس پر جماعت کی غالب اکثریت نے نہایت شاندار رنگ میں عمل گیا۔اس سال حضرت خلیفہ آسیح الثانی نے اپنے ۲۷ ) نبوت (نوبر، سر کے خطبہ جمعہ میں نوجوانوں کو سینما اور ریڈیو دونوں کی نسبت ایک خاص وصیت بھی فرمائی جو حضور ہی کے مقدس الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔حضور نے فرمایا :- الفضل در فتح ه ۱۳۵۳ (۱۲ دسمبر ۳۲ صفحه ۵ به