تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 348 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 348

۴۳۷ وجی کا موں میں حصہ لینا چاہیئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اُس کے اندر جرات اور دلیری پیدا ہو ہمارے ملک میں سکھ بہت تھوڑے ہیں مگر عام طور پر لوگ اُن سے ڈرتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ زیادہ تر فوج میں ملازم ہیں۔اور فوجی کاموں کی وجہ سے وہ نڈر ہو جاتے ہیں۔تو فوجی خدمت قوم کو بہادر بناتی اور اس کے افراد کے اندر جرات اور بہادری پیدا کرتی ہے۔اسی طرح انتظام کی پابندی کی عادت بھی فوج میں داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ جنگ اس قسم کی ہے کہ اسلام اور احمدیت پر اس کا بڑا بھاری اثر پڑنے والا ہے اس لئے اسلام اور حمایت پر اس جنگ کا جو بھی اللہ ہو اس کو مٹانے کا ذریعہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ زیادہ سے زیادہ فوج میں داخل ہوئی تاکہ ان بد اثرات کو مٹا سکیں اور اگران بد اثرات کو نہ مٹا سکیں تو کم سے کم وقت پر اپنی جماعت کی حفاظت تو کر سکیں۔اگر آج وہ فوجی فنون نہیں سیکھیں گے تو کل وہ ان برکات کو بھی حاصل نہیں کر سکیں گے جو فاتح قوموں کے لئے مقدر ہوتی ہیں۔موت اور حیات اللہ تعالٰی کے قبضہ میں ہے جو قومیں موت سے ڈرتی ہیں اور اپنے بچوں کی جانوں کی حفاظت کرتی ہیں، اللہ تعالٰی اُن کے بچے دوسرے ذرائع سے اُن کے سامنے مار ڈالتا ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں خصوصا ان اضلاع کی جماعتوں کو جن کا ناظر صاحب امور عامہ دورہ کر رہے ہیں کہ وہ ہمت اور کوشش کرکے نوجوانوں کو بھرتی کرائیں اور انہیں اس دن کے لئے تیار کریں میں دن احمدیت اُن سے قربانی کا مطالبہ کرے گی۔اگر آج وہ تیار نہیں ہونگے تو وہ وقت پر کچے دھا گے ثابت ہونگے۔اور اسلام اور احمدیت کے لئے قربانی نہیں کر سکیں گے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر فوج میں بھرتی ہوئے تو جرمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ فوج میں بھرتی نہ ہوئے تو گیا جز من اُسی جگہ نہیں آجائیں گے۔اس صورت ہیں تو وہ اسی جگہ جرمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے اور یہ ایک ذلت کی موت ہوگئی جس سے انہیں بچنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔پھر میں کہتا ہوں مومن تو وہ ہوتا ہے جو سوائے خدام کے کسی سے ڈرتا ہی نہیں۔آج وہ جرمن سے ڈر گئے ہیں کل جاپان سے ڈر جائیں گے۔پرسوں کسی اور قوم سے خوف کھاتے پھریں گے۔پھر وہ فتح کس پر حاصل کر یگئے حالانکہ مومن تو وہ ہوتا ہے جو