تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 349
۳۳۸ کسی کی پروا ہی نہیں کرتا اور وہ سمجھتا ہے کہ میرے مقابلہ میں کوئی دشمن نہیں ٹھہر سکتا میں مومن کے نال میں یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے وہ مقابلہ کے وقت سب پر بھاری ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اُن میں سے جو لوگ بھرتی کے قابل ہیں وہ اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کریں۔ہر شخص بھرتی کے قابل نہیں ہوتا۔گورنمنٹ نے اس کے لئے صحت کا ایک معیار مقرر کیا ہوا ہے جو دوست اس معیار پر پورے اترتے ہوں انہیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں بھرتی ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان فنون جنگ سے آشنا ہو سکیں کیسی کو کی معلوم کہ کب خدا تعالی کی طرف سے یہ آواز آنیوالی ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کر کے خدا تعالٰے کے دین کے لئے نکل کھڑے ہوں۔اور یہ کام آسان نہیں بلکہ لڑائی سے بہت زیادہ مشکل ہے بڑائی میں تو یں اور تلواریں ساتھ جاتی ہیں مگر اس لڑائی میں نہ توپ ساتھ ہوتی ہے نہ تلوار ساتھ ہوتی کا پس کون مہر سکتا ہے کہ ہمار بیان کی آزمائش کا موقعہ کب آنیوالا ہے۔یہ آزمائشیں جو اس وقت ہو رہی ہیں یہ تو بالکل ابتدائی ہیں۔اور ایسی ہی ہیں جیسے معمار اپنی ہتھوڑی سے اینٹ کے کنارے صاف کرتا ہے۔اینٹ کے کنارے صاف کرنا اس کا اصل کام نہیں ہوتا بلکہ اصل کام وہ ہوتا ہے جوب۔اینٹ دیوار میں لگ جاتی ہے۔اسی طرح ابھی تو ہمارے کنارے صاف کئے جا رہے ہیں پھر وہ وقت آئیگا جو ب ان اینٹوں کو دیوار میں لگا دیا جائے گا اور سارا ہو مجھے ان اینٹوں پر آپڑے گا۔ایسی طرح جماعت کے جو کارکن ہیں ان کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ اُن میں ایسے دوست اپنے نام مجھے یا دفتر امور عامہ میں لکھ کر بھیجوا دیں جو اپنے اپنے علاقوں میں اس غرض کے نئے دور کرنے اور نوجوانوں کو بھرتی پر آمادہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ہمارے خاندان میں سے ایک نتیجہ فوج میں گیا ہوا ہے۔باقی بچے اس قابل نہیں۔کسی کی آنکھیں کمزور ہیں اور کسی کی عمر نہیں۔ہمارے ایک اور بچے نے تین دفعہ بھرتی ہونے کی کوشش کی مگرنا کام رہا۔اس نے اس غرض کے لئے اپنی پڑھائی بھی چھوڑ دی تھی مگر کامیابی نہ ہوئی۔تو ہمارے خاندان نے اپنا نمونہ پیش کر دیا ہے یہ نہیں کہ ہم نے اپنے پیچھے چھے پاکر رکھے ہوئے ہوں۔ایک بچہ فوج میں گیا ہوا ہے اور دوسرے نے پوری کوشش کی مگر اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔غرض اللہ تعالٰے کے فضلوں پر یقین رکھتے ہوئے آئنارہ مسلمان کی خدمات کے لئے تیار کرنے اور اس وقت جنگی