تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 343 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 343

۳۳۲ ان دیوار دن پچھتیں ڈالی جاتی ہیں اس کے بعد پلستر کیا جاتا ہے۔دروازے اور کواڑ لگائے جاتے ہیں تب کہیں جاکر مکان تیار ہوتا ہے۔جس طرح مکان آہستہ آہستہ کچھ عرصہ کے بعد جا کر تیار ہوتا ہے اسی طرح جان دینے کی عمارت کے تیار ہونے میں کچھ دیر باتی ہے۔کوئی عمارت بھی ایک دن میں تیار نہیں ہوتی۔ایسے ہی یہ نہیں ہو سکتا کہ لوگ جمع ہو کر آئیں اور وہ کہیں کہ اگر تم میں سے پانچہزار آدمی اپنی گردنوں پر چھری پھیر لیں تو ہم اسلام کو قبول کر لیں گے۔بلکہ یہ قربانیاں آہستہ آہستہ دینی پڑیں گی۔پہلے ایک دو، پھر آٹھ دس ، پھر پندرہ ہیں اسی طرح آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔آخر وہ دن آجاتا ہے کہ اللہ تعالے اپنے بندوں کو غلبہ عطا کرتا ہے۔اور کفر متھیار ڈال دیتا ہے اور یہ کام ایک لمبے عرصہ میں جاکر ہوتا ہے۔اسے اس سلسال میں مبلغین احمدیت کو خاص طور پر انتباہ فرمایا کہ : تم یہ مت سمجھو کہ ہم چونکہ تبلیغی جماعت ہیں اس لئے کوئی دشمن ہماری گردنوں کو نہیں کاٹے گا۔ایسا خیال کرنا اول درجہ کی نادانی اور حماقت ہے۔میں نے بار بار تمہارے ذہنوں سے اس بات کو نکالا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی کوئی ایسا ذکر آئے ہماری جماعت کے بعض لوگ فوراً کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کیسی ہو توفی کی بات ہے ہم تبلیغ کرنے والے میں لڑنے والے کہاں ہیں کہ ہماری گردنیں کاٹنے کے لئے قومیں آگے بڑھیں گی۔مگر یہ خیال بالکل غلط اور باطل ہے۔دنیا میں ہمیشہ مبلغوں کی گردنیں کاٹی جاتی ہیں مسیحیوں کی تین سو سال تک گردنیں کاٹی گئیں حالانکہ مسیحی جنگ سے جتنے متنفر تھے اتنے ہم نہیں۔ہمیں تو اسلام وقت پر لڑائی کی اجازت دیتا ہے مگر مسیحیوں کو لڑائی کی کسی صورت میں اجازت نہیں تھی لیکن باوجود اس کے اُن کی گردنیں کاٹی گئیں۔اور سینکڑوں سال تک کاٹی گئیں۔اسی طرح جب ہم بھی صحیح معنوں میں تبلیغ کریں گے تو دنیا اس بات پر مجبور ہوگی کہ ہماری گردنوں کو کاٹے۔ابھی تک تو ہم نے تبلیغ کو اس زنگ میں جاری ہی نہیں کیا کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کی گردنیں کاٹی جائیں، تمہارا مبلغ امریکہ میں گیا اور اُسے وہاں کی حکومت نے نکال دیا مگر تم نے یا کیا تم اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر ٹھ گئے۔مگر جب حقیقی تبلیغ کا وقت آئے گا اُس وقت یہ طریق اختیار نہیں کیا جائیگا۔فرض کرد ن الفضل بوک ۱۳۵۲۴۵ ۶۱۹۴۵ صفحه ۳ +