تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 344 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 344

۳۳ تمہارا مبلغ امریکہ میں جاتا ہے اور اُسے وہاں کی حکومت نکال دیتی ہے تو اُس وقت یہ نہیں ہوگا کہ تم خاموشی سے گھروں میں بیٹھے رہو بلکہ تمہارا دوسرا مبلغ اس جگہ جائیگا اور اُس کو نکال دیا جائیگا تو تیرا مبلغ جائیگا اُس کو نکال دیا جائیگا تو چوتھا مبلغ جائیگا۔اسی طرح ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چو تھے شخص کو وہاں جانا پڑے گا۔اور جب اس طرح بھی کوئی اثر نہیں ہو گا تو ہزار دو شخصوں کیا جائیگا کہ وہ اپنےاپنے گھر سے نکل کھڑے ہو اور خواہ نہیں بھوکا رہنا ے خواہ پیاس کی تکلیف برداشت کرنی پڑے وہ جائیں اور اس ملک میں داخل ہو کر تبلیغ کریں جب ملک میں داخل ہونے سے حکومت نے روک رکھا ہے۔ایسی صورت میں کیا تم سمجھتے ہو امریکہ جانے تمہیں قتل نہیں کرینگے؟ وہ ہر اس شخص کو جو اُن کے ہاتھ آئیگا قتل کر ینگے اور کوشش کریں گے کہ اُن کے ملک میں ہمارا کوئی مبلغ داخل نہ ہو۔لیکن اس کے باوجود جو مبلغ داخل ہونے میں کامیابیا ہو جائیگا وہ ایسی شان کا مبلغ ہو گا کہ امریکہ کے لوگ خود بخود اُس کی باتیں سننے پر مجبور ہونگے۔مگر اب تو یہ ہوتا ہے کہ سیکنڈ یا تھرڈ کلاس میں ایک شخص سفر کرتا ہوا جاتا ہے۔اُسے ہرقسم کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور وہ کسی غیر ملک میں جاکر تبلیغ کرنے لگ جاتا ہے۔ایسا شخص مبالغ نہیں سیاح ہے مبلغ قد میں رہی ہیں کہ جب حکومتیں انہیں اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکتی ہیں تو وہ خاموش نہیں بیٹھے جائیں بلکہ اپنی تجارت اپنی زراعت اپنی ملازمت اور اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکل کھڑی ہوتی ہیں اور اُن میں سے ہر شخص یہ تہیہ کئے ہوئے ہوتا ہے کہ اب میں اس ملک میں داخل ہو کر رہونگا۔اور تبلیغ کرونگا۔ایسی صورت میں دوری باتیں ہو سکتی ہیں یا توحکومت ریتہ دے اور مبلغوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے دے یا انہیں داخل نہ ہونے دے اور ان سب کو اپنے حکم سے مروا ڈالے۔اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو قربانیوں کا مطالعہ کرتی ہیں۔اگر حکومت رستہ دیگی تو تم تبلیغ میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اگر حکومت تمہیں مارے گی تو تم خون کی ندی میں بہہ کر اپنی منزل مقصود کو پہنچو گے۔پس یہ خیال مت کرد که مبلغوں کے لئے قربانیاں نہیں ہوتیں وہ تبلیغ جو لوگوں کو ہلا دیتی ہے ابھی تک ہم نے شروع ہی نہیں کی۔لیکن اب اس جنگ کے بعد غائباً زیادہ انتظار نہیں کیا جائیگا اور تمہیں ان قربانیوں کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکلنا پڑے گا یا نے الفضل ۵ر تبوک ۱۳۳۲ رهش (۵ر ستمبر ۶۸۱۹۴۲) صفحه ۹۵