تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 332 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 332

۳۲۲ نماز باجماعت ادا نہیں کریں گے۔اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو قوم مجرم سمجھوں گا کہ انہوں نے نگرانی کا فرض ادا نہیں کیا۔اس کے ساتھ ہی حضور نے بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلائی کہ انہیں بھی اپنے بچوں اور نوجوانوں اور عورتوں اور مردوں کو نماز با جماعت کی پابندی کی عادت ڈالنی چاہئیے۔اگر اس بیات میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے تو وہ ہرگز خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو نہیں ہو سکتے چاہے وہ کتنے ہی چندے دیں اور چاہے وہ کتنے ہی رینہ ٹیوشن پاس کر کے بھیجوا دیں " سے شعار اسلام کی پابندی کیلئے ہم ارشاد سیدنا حضرت ایرانی خلیفہ اسی انسانی میشه می نا امیرالمومنین ہی مختلف طریق سے جماعت کو اس طرف توجہ دلاتے رہتے تھے کہ جماعت احمدیہ کسی انجن کا نام نہیں یہ ایک مذہبی نظام ہے جس کا مقصد دنیا میں اسلامی شریعت کا قیام را یاد ہے۔ی حقیقت احباب جماعت کے ذہن نشین کرانے کے لئے اس سال بھی حضور نے اور اعیان طلاق کو ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں شعایہ اسلامی کی پابندی کی از حد تاکیا کی اور بتایا کہ داڑھی منڈوانے والے احمدی شکست خوردہ ذہنیت رکھتے ہیں۔انہیں جماعت کے کسی عہدہ کے لئے منتخب نہ کیا جائے۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- جہاں شریعت کے احکام کا سوال آجائے وہاں اگر ہم دوسروں کی نقل کریں تو یقیناً ہم اسلام کی ذلت کے سامان کر کے دشمنوں کی مدد کر نیو الے قرار پاتے ہیں۔اپنی نقلوں میں سے ایک نقل داڑھی منڈوانا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وفعہ نہیں متواتر داڑھی منڈوانے سے منع فرمایا ہے۔اور داڑھی منڈوا کہ کوئی خاص فائدہ انسان کو نہیں پہنچتا۔۔۔۔۔۔جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی چھوٹی سی بات میں نہیں مان سکتا اس سے یہ کتب توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر اس کے سامنے کوئی بڑی بات پیش کی جائے تو وہ اسے مان لیگا " نیز فرمایا :- میں نے متواتر جماعتوں کو تو جہ دلائی ہے اور ہمارے ہاں قانون بھی ہے کہ کم سے کم جماعت کے عہدیدار ایسے نہیں ہونے چاہئیں جو داڑھی منڈواتے ہوئی ہے اس طرح اسلامی ه فضل در احسان ها گه ر ده رجون ۱۹۳۳) صفحه ۱ - ۰۲