تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 331
۳۲۱ مسیح موعود علیہ اسلام کے حقیقی معنوں میں وارث بن جائیں اور حضور علیہ السلام کی طرح اسلام کی خوبیوں اور قرآنی معارف کے بیان کرنے اور غیر مذاہب کے رڈ اور اُن کے اعتراضات کے دفاع میں ہر وقت منہمک رہیں۔اسی غرض سے آپ نے قادیان میں مجلس ارشاد قائم کی تھی جو بہت مفید کام انجام دی ہی تھی۔اس مجلس کے زیر انتظام آپ نے اس سال ملمی تقریروں کا ایک مفباری سلسلہ جاری فرمایا۔جو آپ کی وفات امان ) تک برابر جاری رہا۔اس تعلق میں آپ کی زیر صدارت پہلا علمی جلسہ ۱۲ هجرت هسته ای ساد) کو مسجد اقصی قادیان میں بعد نماز مغرب منعقد ہوا۔جس میں حسب ذیل مقالے پڑھے گئے :۔- ا مسیح اور ان کی والدہ کا میں شیطان پاک ہونا۔(مولانا ابو العطاء صاحب فاضل) مسیح کا مُردے زندہ کرنا " دڈاکٹر حضرت مفتی محمد صادق صاحب ڈی ڈی پی ایچ ڈی ) " ۳ مسیح کا خالق طیور ہوتا " حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احم و صدا سیما بی۔اے آمین ) - " مسیح کا بن باپ پیدا ہونا " (مولوی عبد المنان صاحب، مولوی فاضل ایم۔اسے پلی اگ) میچ کا روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہونا " (حضرت میر محمد الحق صاحب نے ) ہے یہ پانچوں مقالے نہایت پر مغنر اور بہت معلومات افزا تھے۔جن میں سے چار ریویو آن ریجنز اردو کی مختلفت اشاعتوں میں بھی چھپ گئے ہے نماز با جماعت کے لئے حضر حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں امیرالمومنین کا تاکیدری ارشاد ۱۱۹۴۲ یہ افسوسناک اطلاعات موصول ہوئیں کہ قادیان کے بعضی احمدی نمازوں میں سست ہیں۔حضور نے د رحمان رجون ر کو خاص طور پر اسی مسئلہ پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں نماز با جماعت کی شرعی اہمیت واضح کرنے کے بعد انصار اللہ اور خدام احمدیہ کا فرض مقرر فرمایا کہ وہ قادیان میں اس امر کی نگرانی رکھیں کہ نمازوں کے اوقات میں کوئی دکان کھلی نہ رہے اور نماز کے متعلق ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اس طرح جاسوسی کرنے میطرح پولیس مجرموں کی جاسوسی کا کام کرتی ہے۔نیز فرمایا کہ میں اس کے بعد ان لوگوں کو نہ یہی مجرم سمجھوں گا جو ام الفضل اور بیرت ها داوری سه صفحه ۱ + له الفضل ۲۰۲۱ را بیرت ها در می یاد شد ۳۳ امین و • t ے یا نہ ہو ایویو آن را نیز اردو ان ال ال ها و جوری اور جون جولائی -