تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 330
۳۲۰ استفادة جیسی ہے کہ سنڈے سے آٹے کے لئے لوگوں کو کئی کئی گھنٹے ڈیو کے سامنے کھڑے رہنا پڑتا تھا۔گر قادیان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا کوئی دن نہیں آیا جب کسی شخص کو آٹے کے لئے ز تکلیف ہوئی ہو۔سوائے اس کے کہ کسی نے بہت ہی نادانی کر کے اپنے حق کو زائل کر دیا ہو کیونکہ یہاں یا تو لوگوں کو فلہ کے لئے قرض رو پے دے دیئے گئے تھے یا غرباء میں فقہ مفت تقسیم کر دیا گیا تھا، یا پھر باہر کی جماعتوں نے قادیان دانوں کے لئے غلہ مہیا کر دیا تھا جو تاریان والوں کو باہر کے ریٹوں سے بہت سستا دیا جارہا تھا۔جب باہر سو اچھے اور سات روپے گندم کا بھاؤ تھا ہم قادیان میں سوا پانچ روپے پر دیتے رہے اور جب باہر آٹھ اور تو ہم یہ ریٹ تھا ہم سات روپیہ پر دیتے رہے اور جب باہر گندم مولہ رد ہے پر بک رہی تھی ہم نے جو انتظام کیا اُس کے مطابق قاریان والوں کو آٹھ روپے پر گندم ملتی رہی۔گویا باہر کے بھاؤ میں اور اُس بھاؤ میں جس پر ہم نے قادیان میں گندم دی دو گنا فرق تھا۔اس وقت بھی تمہارے پاس کچھ گندم باقی تھی مگر باوجود اس کے کہ اس وقت امرتسر میں ساڑھے نو اور دس رو پیر قیمت ہے میں نے دفتر والوں سے کہا اعلان کردو کہ جن لوگوں نے روپیہ جمع کرا دیا ہوا ہے وہ آٹھ روپیہ کے حساب سے گندم سے نہیں اور وہ نہ میں تجھ دوسروں کو اسی قیمت پر گندم دیں۔در حقیقت یہ قیمت بھی اس لئے مقرر کرنی پڑی کہ جب گندم بہت گراں ہوگئی تو اس وقت بعض جگہ ساڑھے نو اور پونے دس رو پلے پر گندم خریدی گئی مگر اس کے مقابلہ میں بعض احمد یوں نے ہمیں بستی گندم دے دی۔اس لحاظ سے ہمیں اوسطاً آٹھ رو پے قیمت مقررکرنی پڑی۔درند جو گندم ہم نے آٹھ روپے پر فروخت کی ہے اس کا کچھ حصہ ایسا ہے جو ساڑھے نو اور دس پر خریدا گیا ہے۔مگر چونکہ اس کے مقابلہ میں بعض احمدیوں سے سستی گنا مہ مل گئی اس لئے تمام اخراجات ملا کر ایک اوسط قیمت مقرر کردی گئی اور اس طرح قادیان والوں کو باہر کے مقابلہ میں پھر بھی کستی گندم مل گئی یاسے مجلس ارشاد کے تحت علمی تریدین سلسله حضرت را در ایاق صاحب این شد ن کو بروقت ہو یرید تڑپ رہتی تھی کہ سب احمد می سلطان القلم حضرت ام الفضل ۱۲۰ شهادت ۱۲ ۱۳ (۲۰ اپریل ۱۹۳۳) صفحه ۳۰۲ به