تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 13
عیسائی کیلنڈر کے بالکل متوازی چلتی تھی یعنی اُس کے ہر نئے سال کا آغاز اور اس کے مہینوں کی تقسیم بالکل رومن کیلنڈر کی طرح تھی۔دولت عثمانیہ کے ہجری شمسی کیلنڈر میں مہینوں کے نام رومن سے مخلوط سریانی زبان سے اخذ کئے گئے تھے جو یہ تھے:- عادت ، نیسان ، ایس ، حزیران ، تموز ، اغسطس ، ایلول ، تشرين الاول، تشرين الثانی ، کانون الاول ، کانون الثانی ، شباط اس کے مقابل حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے جاری فرمودہ تقویم ہجری شمسی کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مہینوں کے نام ایسے مناسب تجویز کئے گئے جو اسلامی تاریخ کے مشہور واقعات کے لئے بطور یادگار تھے تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان اور دنیا کے لئے دین کامل کی یاد قیامت تک ہر لحظہ تازہ ہوتی رہے۔بالفاظ دیگرے ہجری شمسی سال کے بارہ مہینوں میں زمانہ نبوی کے بارہ ایسے ضروری واقعات آنکھوں کے سامنے پھر جاتے تھے جو تاریخ اسلام کا نقطہ مرکز یہ اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ کی جان ہیں۔بہر حال حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تقویم هجری شمسی کے مہینوں کے مندرجہ ذیل نام تجویز فرمائے۔صلح ( جنوری) (۲) تبلیغ (فروری) (۳) امان ( مارچ) (۴) شہادت (اپریل) (۵) ہجے (منی) (۶) احسان (جون) ظہور (اگست) (9) تبوک دستمبر) (اکتوبر) (11) نبوت (نومبر) (۱۲) فتح (دسمبر) < (4) وفاء (جولائی) (۸) (10) انشاء (۱۱) جوی کمی کی نسبت تفصیلا تو میری امی کی ایک اور وار کے کیے جاری کی بیویاں حضر مولوی محمد الفیل صاحب کے قلم سے کو کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟ نیز اس تقدیم کے عملی نفاذ کے سال اول ہم سے کا کیلنڈر کیا ہے ؟ ان سب امور پر حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب سلالپوری کے ایک مضمون میں رہو الفضل " ۲۶ صلح ۳۱ پیش مطابق ۲۶ جنوری 19 میں شائع ہو چکا ہے بڑی شرح وبسط سے روشنی پڑتی ہے جسے بجنسہ درج ذیل کیا جاتا ہے ؟ له تقويمنا الشمسي " صفحه ۱ : 14 حضرت مولوی صاحب نے ہر ماہ تبلیغ فروری ۱۳۱۹ ش / ۱۹۴۰ء کے الفضل " میں اپنے مضمون کے بعض الفاظ کی اصلاح کی تھی جس کے مطابق متن میں بھی ترمیم و تصحیح کر دی گئی ہے ؟ ( ناقل )