تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 12 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 12

روھانی “ والے مشہور سفر کے دوران جب دہلی میں رصد گاہیں اور بجنتر منتر دیکھے تو اسی وقت سے تہیہ کر لیا کہ اس بارہ میں کامل تحقیق کر کے عیسوی شمسی سند کی بجائے ہجری شمسی سنہ جاری کر دیا جائے اور آئیندہ کے لئے عیسوی سنہ کا استعمال چھوڑ دیا جائے۔خواہ مخواہ عیسائیت کا ایک طوق ہماری گردنوں میں کیوں پڑا رہے۔تقویم کے لئے کمیٹی کی شکل ان پر ور نے نوری اشتہ کے شروع میں تقویم مجری شمی کی انچہ حضور ممبر نامزد فرمائے :- ترویج سے متعلق ایک کمیٹی قائم فرما دی اور اس کے لئے مندرجہ ذیل -۱- حضرت سید محمد اسحاق صاحب فاضل ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ قادیان (صدر کمیٹی) -۲- حضرت صاحبزادہ حافظ میرزا ناصر احمد صاحب فاضل پرنسپل جامعہ احمدیہ قادریان - -۳- حضرت مولوی محمد اشفعیل ساحب حلالپوری (سابق پروفیسر مجامعہ احمدیہ قادریان ) م مولوی ابو العطاء صاحب فاضل سابق مبلغ بلاد عربید چونکہ حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب کمیٹی کی تشکیل سے قبل از خود ایک قمری تقویم تیار کر رہے تھے اس لئے ارکان کمیٹی کی طرف سے تقویم کا ڈھانچہ تجویز کرنے کا اہم فریضہ آپ ہی کے سپرد کیا گیا۔آپ نے اس کا ایک خاکہ کمیٹی کے سامنے رکھ دیا جو کمیٹی نے اپنی رائے تقویم کی منظوری اور اجراء کے ساتھ حضرت خلیفہ اسی الثانی کی خدمت میں پیش کیا جس کی منظوری حضرت امیر المومنین سیدنا فضل عمر نے جنوری سال کے آغاز میں دے دی۔اش میں یہ تقویم شائع حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحبت حلالپوری نے " الفضل " ۲۶ جس کی کردی اور جماعت احمدیہ کے اولوالعزم امام ہمام کی برکت اور توجہ سے عالم اسلام کی ایک قدیم ضرورت پوری ہوئی۔اور ہجری شمسی تقویم جاری ہوگئی۔تقویم هجری شمسی کی امتیازی حیثیت خلافت عثمانیہ نے شام میں جو بھری شمسی تقویم رائے کی وہ شمسی مہینہ مارچ سے شروع ہوتی تھی مگر موجودہ تقویم مروجہ سیر روحانی تقریر سید نا حضرت خلیفه اسبیع الثانی رضا فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۳۵) صفر ۱۹۹ ۱۰۱ له الفضل - قادیان جنوری ۱۹۴۰ و صفحه ۳ کالم معاینه له " تقديمنا : الشمسی صفحه ا ) از محب الدین الخطيب) ناشر المطبعة السلفية ومكنيتها "القاهره ۱۳۴۶ هـ *