تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 316 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 316

۳۰۶ اور ان کے منصوبہ قتل سے بچانے کے لئے کنایہ ہے کیونکہ خدا کے پوری عمر دینے اور طبعی عمر سے وفات دینے سے یہی لازم آتا ہے۔ظاہر ہے کہ جو رفع بعد وفات ہوتا ہے وہ مرتبہ کی بزرگی کے معنوں میں ہی ہوتا ہے نہ کہ جسم کا اٹھانا بالخصوض جبکہ رانی کے ساتھ اور ان کا قول و مُظاهِرُكَ مِن الو یا بھی موجود ہے۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر صرف حضرت سیج کے اعزاز و تکریم کا معاملہ مذکور ہے۔لفظ رفع ان معنوں میں قرآن مجید میں بکثرت آیا ہے جیسا کہ آیات ذیل سے ظاہر ہے :- في بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ - نَرْفَعُ دَرَجَبٍ مَنْ نَشَاءُ + وَرَفَعْنَا لَكَ ذكركَ ، وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَليا - يَرْفَعُ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوا + پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد رَافِعُكَ إِلَى اور بل رفعه الله اليه میں اسی مطلب کو ظاہر کیا ہے۔جو عربوں کے قول تحتى فلان بالرفيق الأعلى اور آیت إِنَّ اللَّهَ مَعَنا۔نیز عِندَ مَلی ہے مقتدر میں بیان کیا گیا ہے۔ان تمام الفاظ سے بجز نگہداشت ، نگرانی اور خدائی حفاظت میں داخل ہو جانے کے کچھ اور مراد نہیں ہوتا۔نامعلوم لفظ اللہ سے آسمان کا لفظ کیسے نکال لیا گیا ہے۔یقیناً یہ قرآن کریم کی واضح عبارت پر ظلم ہے اور محض ان روایات اور قصوں کو ماننے کی بناء پر یہ ظلم کیا گیا ہے جن کی یقینی صحت تو کجا ظنی صحت پر بھی کوئی دلیل یا آدھی دلیل بھی قائم نہیں ہوتی۔علاوہ ازیں حضرت عیسی محض ایک رسول تھے۔ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔حضرت عیتی کی قوم نے اُن سے روشنی کی اور ان کے متعلق ان کے بڑے ارادے ظاہر ہو گئے۔تب جمله انبیاء و مرسلین کی سنت کے مطابق ذات باری کی طرف ملتبھی ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے غلبه وحکمت کے مطابق اُن کو دشمنوں کے ہاتھوں سے بچایا اور ان کے منصوبہ کو ناگاہ کر دیا۔یہی وہ امر ہے جو آیت قرآنیہ فَلَمَّا تَحْتَ عِيسَى مِنْهُمُ الكُفْرَ قَالَ مَنْ انْصَارِى إِلَى اللَّهِ الوَ میں مذکور ہوا ہے۔ان آیات میں اللہ تعالے نے کفار کی تدبیر کی نسبت اپنی تدبیر کے زیادہ مخفی ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔اور یہ کہ انہوں نے حضرت عیسی کے تباہ کرنے کے لئے جو مگر کیا تھا اس خدائی تجویز کے سامنے جو حضرت عیسی کی حفاظت کے لئے تھی ناکام ہو گیا۔فرمایا اذ قال الله