تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 315
۳۰۵ کسی عقیدہ کی بنیاد نہیں بن سکتیں اور نہ مشکگرمیوں کے سلسلہ میں اُن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے میفتمرین کے دعوئی کی تیسری بنیاد حدیث معراج ہے جس میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر گئے تو یکے بعد دیگرے آسمان کھلتے جاتے تھے اور حضور اُن میں داخل ہوتے جاتے تھے اسی اثناء میں حضور نے دوسرے آسمان پر حضرت عیسی اور اُن کے خالہ زاد بھائی حضرت یحی " کو دیکھا۔ہمارے نزدیک اس سند سے اس استدلال کی کمزوری ظاہر کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ اکثر شارحین حدیث نے معراج کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کا نبیوں سے عنا صرف رومانی قرار دیا ہے اور جبہ بانی ملاقات کی نفی کی ہے ملاحظہ ہو فتح الباری زاد المعاد و غیره کتنی عجیب بات ہے کہ مفترین بل رَحَهُ اللہ ایک ہے میں رفع کے معنے حضرت عیسی کے آسمان پر لے جانے کا استدلال حدیث معراج سے کرتے ہیں جب کہ ان میں سے ہی ایک گردہ حدیث معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عیسی سے ملاقات کو جسمانی قرار دینے کیلئے آیت بل رفعه الله اکیہ سے سنا پڑتا ہے یا اس طرح جب وہ حدیث کی شرح کرنے لگتے ہیں تو اپنے مفہوم کے لئے آیت کو دلیل گردانتے ہیں اور جب آیت کی تفسیر کرتے ہیں تو اپنے مفہوم کے لئے آیت پر عاریت کو دلیل بنا لیتے ہیں۔ہم جب سورة ال عمران کی آیت اني متوفية ومرافعات رائی کو سورۃ نساء کی آیت بل رفعه الله الله سے ملاتے ہیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ مؤخر الذکر آیت میں پہلی آیت کے وعدہ کے ایفاء کی خبر دی گئی ہے اور یہ وعدہ وفات ، رفع اور کفار کے الزامات سے تطہیر کا تھا۔دوسری آیت رباب رفعہ اللہ الیہ) میں اگر چہ وفات اور تظہیر کا ذکر موجود نہیں صرف رفع الی اللہ کا بیان ہے لیکن ضروری ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے وقت دونوں آیتوں کو اکٹھا کرنے کے لئے پہلی آیت میں مذکور جملہ امور کو ملحوظ رکھا جائے۔پس معنیٰ یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو فات دی اُن کا رفع فرمایا اور کفار سے انہیں نظیر بخشی۔علامہ آلوسی رحمتہ اللہ تعالی نے رانی منو لیک کی تفسیر می مستعد و معانی ذکر کئے ہیں۔جن میں زیادہ واضح اور موزون تر یہ ہیں کہ اسے ملیلی ! میں تیری مدت حیات کو مکمل کر کے تجھے طبعی موتی سے وفات دینے والا ہوں تجھے پر ان کو مسلط نہ ہونے دونگا جو تجھے قتل کر دیں۔یہ دشمنوں سے محفوظ رکھنے