تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 317
يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُهْرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا۔اس میں اللہ تعالیٰ نے مسیح کو بشارت دی ہے کہ وہ دشمنوں کی تدبیر کو نا کام کر دے گا اور مسیح کو ان کے مکر سے بچائیگا بیٹی کو پوری عمر دے گا یہاں تک کہ سمیت قتل و صلب کے بغیر طبعی میت سے فوت ہوگا پھر خدا اس کا رفع کرے گا۔یہ دو مفہوم ہے جو ہر پڑھنے والے کو ان آیات سے سمجھ آتا ہے۔جن میں حضرت عیسی کے انجام کی خبر دی گئی ہے بشرطیکہ وہ پڑھنے والاخدا تعالی کی اس سنت سے واقعت ہو جو وہ نبیوں کے ساتھ اختیار کرتا رہا ہے جبکہ اُن کے دشمن اُن پر حملہ آور ہوتے ہیں۔نیز اس قاری کا ذہن ان روایات سے بھی خالی ہو جو کسی صورت میں قرآن مجید پر علم نہیں بن سکتیں۔میری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ حضرت عیسی کو یہود کے درمیان سے چھین کر آسمان پر لے جانا مگر کیسے کہلا سکتا ہے؟ اور پھر سے اُن کی تدبیر سے بہتر تدبیر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ اس کا مقابلہ کرنا میہور کی اور نہ کسی اور کی طاقت میں ہے۔یاد رکھیئے کہ لفظ مکر کا اطلاق اسمی وقت ہو سکتا ہے جبکہ وہ بات اسی طریق پر ہو اور عادت سے خارج نہ ہو۔چنانچہ بائل ؟ طرح کی آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں وارد ہوئی ہے۔فرمایا : وإِذْ يَمْكُرُ بِاكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُشْتَوا أَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ ويمكر الله وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ - خلاصه بحث: مندرجہ بالا محبت کا خلاصہ یہ ہے کہ دا، قرآن مجید اور احادیث بندگی میں کوئی ایسی سند موجود نہیں ہے جو سانی بخش طریق پر اس عقیدہ کی بنیاد بن سکے کہ حضرت عیسی اپنے جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور وہ اب تک وہاں زندہ ہیں اور وہیں سے کسی وقت زمین پر نازل ہونگے۔و کاره (۲) اس بارے میں آیات قرآنیہ صرف یہ ثابت کر رہی ہیں کہ اللہ تعالے نے حضرت عیسی سے فرمایا کہ دہ اُن کی مدت عمر کو پورا کرے گا۔اور پھر اس کا اپنی طرف رفع کرے گا اور اسے کافرون سے بچا ئیگا۔اور یہ کہ یہ وعدہ پورا ہوچکا۔دشن حضرت عیسی کو نہ قتل کر سکے نہ صلیب سے مار سکے بلکہ اللہ نے اسکی مدت زندگی کو پورا کر کے اُن کو وفات دی اور اُن کا رفع کیا۔(۳) یقیناً ہر شخص حضرت عیسی کے زندہ جسم سمیت آسمان پر جانے اور آج تک وہاں بیٹھے رہنے