تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 303
پہلے تین سالہ دور میں رسالہ کی ادارت کے فرائض مولانا ابو العطاء صاحب نے انجام دینے اور نائب کے طور پر چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر نے کام کیا۔ان تین برسوں میں رسالہ نے غیر مبایعین اصحاب پر نہایت درجہ معقولیت سنجیدگی اور مدتل طریق سے حجت تمام کر دی جس سے ایک طرفت سے مسالہ احمدیہ کے لڑیچرمیں ٹھوس مستند اور قیمتی معلومات کا اضافہ ہوا اور دوسری طرف احمدی نوجوانوں اور دوسرے احمدیوں پر مولوی محمد علی صیب ایم۔اے اور اُن کے رفقاء کے عقائد دخیالات کی حقیقت بھی خوب واضح ہوئی۔اور کئی سعید روحیں نظام خلافت سے بھی وابستہ ہو گئیں۔رسالہ کے دوسرے دور میں میاں عبد المنان صاحب عمر مدیر تھے اور مولوی غلام احمد صاحب بلاد ملہوی بلک عطاء الرحمن صاحب اور مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب نائب مدیر افترقان کے دور جدید کا ہر شمارہ غیر سائین ۱۳۹ هیش اور بہائیوں کے متعلق مضامین پر مشتمل ہوتا تھا۔رسالہ فرقان " کا آخری ایشوع اور شائع ہوا جس کے بعد ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے اور اسے بند کر دینا پڑا۔میں ہے یہ رسالہ ایک ہزار کی تعداد میں چھپتا تھا اور کثیر تعداد میں غیر سائین اور بہائیوں کو مفت بھیجا جاتا تھا تھا حکیم عبد الطیف صاحب منشی فاضل پر دو دور میں اس کے طابع دنا شہر کے فرائض انجام دیتے رہے۔مرکزی ابی میں قاضی بیل اور اس کا واقعہ ہے کہ کانظامی مانو کی کوششوں سے ہندوستان مان نشہ علماء کی مرکزی اسمبلی میں ایک مسودہ قانون " قاضی بل " کے نام سے پیش جماعت احمدیہ کا احتجاج مارچ ۶۱۹۳۲ کیا گیا۔جس کا مفاد یہ تھا کہ مسلمانوں کا نکاح پڑھنے کے لئے سرکاری طور پر قاضی مقرر کئے جائیں جو شادیوں کا ریکارڈ رکھیں۔اس بل کی بڑی دفعات یہ تھیں :- صوبائی حکومتیں موزون اشخاص کو بطور قاضی مقرر کر ینگی۔نام زندگی ڈسٹرکٹ کمیٹیاں کریں گی۔- ڈسٹرکٹ کمیٹی مندرجہ ذیل اشخاص پشتمل ہوگی: ڈسٹرکٹ جج۔ڈپٹی کمشنر۔ایک مسلم وکیل۔میونسپل بورڈ کا ایک مسلم ممبر- دو علماء یجسلیٹو اسمبلی کے مسلمان ممبر جو ضلع کی طرف سے منتخب شدہ ہوں۔یہ ڈسٹرکٹ کمیٹی ه رساله "فرقان" امان ۳۲ دهش زمارچ ۱۹۲۶ ۶ صفحه ۳۶ به ۲۲ پمفلٹ مسلم لیگ کے شاندار اسلامی کا رتا ھے" صفحه ۲ مرتبه تبعية العلماء صوبہ دہلی۔ناشر سید انظار الدین قاسمی) جمعیتہ العماء کی طرف سے اس بل کا بظاہر یہ مقصد بتایا گیا کہ مسلمانوں کو اُن کے شرعی معاملات میں سہولتیں حاصل ہو جائیں گی۔(ایضا صفحہ ہے )