تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 304 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 304

۲۹۴ ضلع کے لئے قاضیوں کی تعداد اور اُن کے ناموں کی لوکل گورنمنٹ سے سفارش کرے گی۔قاضیوں کے کام کی نگرانی کرے گی۔اور وقتا فوقتا ان کے کام کے متعلق گورنٹ کور اور ریگی ۳۔قاضی کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ حسب ذیل مدرسوں کا فارغ التحصیل ہو :- دارالعلوم دیو بند مظہر العلوم سہارن پور - مدرسه خانقاه اطلوی تھانہ بھوائی۔دیوند درسه شماری مراد آباد - در کمند امر و سه - در رتبه گولائی - مدرسته بدایوان - مدرسه بریلی مدرسه النہیات کا پور - عربی مدرسہ الہ آباد میں اس بل میں چونکہ اسلامی نکاحوں پر ناجائز قیود اور بے معنی پابندیاں عائد کر کے مسلمانان ہند کے لئے گوناگوں مشکلات پیدا کی گئی تھیں اور ملک کے تمام مختلف الخیال اسلامی فرقوں کے ایک اہم مذہبی و معاشرتی معاملہ کو سرکاری طور پر چند مخصوص مدرسوں کے فارغ التحصیل علماء کے ہاتھ میں دے دیا گیا تھا اس لئے احمدیہ پریسین اور احمدیہ جماعتوں نے اس کے خولات موثر آواز بلند کی۔اور آل انڈیامسلم لیگ نے بھی اسی کی شدید مخالفت کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ قاضی بل" اسمبلی میں پاس نر موسکا اور مسلمانان ہند ایک نہایت درجہ ضرور رانا قانون کی زد سے بچ گئے۔حکومت انگریزی سے شیخ الاسلام نظر بند استان کشور دستاز عالم والی سیدمحمدسلیمان اسب کے وممتاز را نیکی در خواست اور اخبار الفضل ندی نے ها (د) کے شروع میں مسلمانان ہے کا نظام شریعی" کے عنوان سے ملکی اخبارات میں ایک مضمون شائع کیا جس میں ہندوستانی مسلمانوں کی پراگندگی اور زبوں حالی کا دردناک نقشہ کھینچتے ہوئے لکھا ہے ہندوستان میں مسلمانوں میں مذہبی امور سخنت انتشار اور بے ترتیبی کی حالت میں میں مسجدیں ویرانی ہیں۔اماموں اور سورتوں کی حالت سخت قابل اصلاح ہے۔مدر سے کس مپرسی میں پڑے ہیں۔ہندون میں جس قدر مذہبی مدارس ہیں اُن میں کوئی باہمی نظم و سلسلہ نہیں۔اوقاف کی حالت سخت قابل افسوس ہے۔مسلمانوں کی ابتدائی مذہبی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔ملک کے بڑے بڑے رقبے مذہبی جہالت کی بناء پر اسلام اور حکومت دونوں کے لئے خطرناک ہیں۔طلاق دنکاح نسق دو تفریق کے ہزار ہیں معاملات جو رات دن پیش آتے رہتے ہیں تمام ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ان کا کوئی انتظام صفحه ۵۲ واحطه والفضل ۲۰۱۳ و ۲۵ ام ۲ شهادت اپریل ) ام الفضل