تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 296
Pay کی طرف سے مولوی محمد نذیر صاحب مناظر تھے۔مناظرہ تین گھنٹہ جاری رہا۔غیر احمدی مناظر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فیضان نبوت کے بالکل مسدود ہونے کی تائید میں جس قادیر دلائل پیش کئے اُن سب کو حضرت مولانا راجیکی صاحب نے دلائل عقلیہ و نقلیہ سے بے بنیاد ثابت کیا۔نیز سامعین پر واضح کیا کہ ایک طرف تو فریق ثانی کے مناظر یہ دعونی پیش کر رہے ہیں کہ آیت خاتم النبیین کے معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نبیوں کو ختم کر دیا بند کر دیا اور دوسری طرف اُن کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کے بعد حضرت مسیح ناصری دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔گویا اُن کا اپنا عقیدہ ہی اُن کے دھونی کو غلط اور ہے حقیقت ثابت کر رہا ہے۔بغیر احمدی مناظر آخر وقت تک اس کا کچھ جواب نہ دے سکے اور غیر متعلقہ باتیں پیش کر کے پبلک کو غلط فہمی میں ڈالنے کی کوشش کرتے رہے مختصر یہ کہ خدا کے فضل سے اس مناظرہ نے احمدیت کے زور دار دلائل کی دھاک بٹھا دی بیله -۲- مباحثه رو تری سکھر - ۲۳ تبلیغ ها دهم فرودی ایم کو انجن اسلامیہ رو پڑی اور جماعت احمدیہ سکھر کے مابین ایک مناظرہ بمقام رو ٹری منعقد ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مونانا ابولاعطاء صاحب بنے اور اہل سنت والجماعت کی طرف سے لال حسین صاحب اختر نے مناظرہ کیا۔پہلا مناظرہ حیات سیم اور رفع الی السماء پر تھا۔مولوی ابو العطار صاحب نے پندرہ آیات - دس احادیث اور اقوال بزرگان سلف اور اجماع صحابہ سے وفات مسیح ثابت کر دکھائی۔مگر غیر احمدی مناظر ان دلائل کا جواب دینے اور اپنے دعونی کو ثابت کرنے کی بجائے ادھر ادھر کی باتوں میں اُلجھے رہے۔دوسرا مناظرہ مسئلہ ختم نبوت پر تھا۔احمدی مناظر نے تخت کی مستند کتاب مفردات القرآن (امام راغب) پیش کرکے بتایا کہ خاتم المین کے حقیقی معنے کسی چیز کا در سری چیز یں اپنی تاثیر پیدا کرنا اور اپنے نقوش قائم کر دینے کے ہوتے ہیں لیے ان حقیقی معنوں کی رھے خاتم النبیین کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ نبی جس کی روحانی توجہ نبی تراش ہو۔فاضل مناظر نے اپنے موقف کی تائید میں مسئلہ ختم نبوت پر بخوبی نکتہ نگاہ سے روشنی ڈالنے کے علاوہ قرآن مجید، احادیث صحیحہ اور اقوال الفضل ها تبلیغ ها ۱۳۶۰ n صفحہ کالم او۱۳۹۲ حضرت امام راغب رحمتہ اللہ علیہ کے اصل الفاظ یہ ہیں :- الخدم والقيم يُقَالُ عَلى وَجْهَيْنِ مَعْدَهُ خَمْتُ وَطَبَعْتُ وَهُوَ نَاثِيرُ الشَّيْءِ كنقش الخاتم والطَّابِ وَالثَّانِي الوَثَرُ الْحَاصِلُ عَنِ النَّفْسِ" (زیر لفظ ختم یعنی ختصر اور طبع کی دو صورتیں ہیں۔پہلی صورت یہ ہے کہ یہ ختمت اور طبیعت کا مصدر ہے جس کے معنے ہیں دو میری چیز میں اثرات پیدا کر دینا جیسا کہ شہر کا نقش دوسری چیز میں اپنے نقش واثرات پیدا کرتا ہے۔اور دوسری صورت اس نقش کی تاثیر کا اثر حاصل ہے۔