تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 297 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 297

YAL بزندگی ہی سلف کے متعد واضح دلائل پیش کئے۔احمدی مناظر کی برجسته د تل اور متین دن شائستہ تقریرون کا اہل علم طبقہ پر نہایت ہی عمدہ اثر ہوا ہے مباحثہ مجوپورہ دھاریواں : نجو پورہ میں پہلے مناظرہ کے ایک ماہ بعد دو برا مناظرہ صدر قرتی مسیح موعود عبد السلام کے موضوع پر ہوا۔جماعت اجر پہ کی طرفت سے مولانا ابو العطاء صاحب فاضل ہی مناظر تھے مگر اہل سنت و الجماعت کی طرف سے مولوی عبداللہ عمار صاحب امرتسری پیش ہوئے۔مولوی ابو العطاء صاحب نے قرآن مجید کی متعدد آیات ، احادیث نبویہ اور معیار ہائے صداقت انبیاء کے رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی ثابت کی مگر معمار صاحب نے دوران مباحثہ لاجواب ہو کر مرزا احمد بیگ والی پیشگوئی پر اعتراض شروع کر دیئے اور دعوی کیا کہ مرزا احمد بیگ کا چھے ماہ میں مرجانا پیش گوئی کے خلاف ہے کیونکہ اس کے لئے تین سال کی میعاد مقرر تھی۔مولوی ابو العطاء صاحب نے جواب دیا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے اشتہار ۲۰ فروری شہر میں تحریر فرمایا تھا کہ وہ تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائیگا یہے یعنی تین سال پورے ہونے ضروری نہیں۔معمار صاحب نے جواب میں کہا کہ اگر ایک ہفتہ میں بھی یہ حوالہ دکھا دیں تو میں پچاس روپے انعام دونگا گر مولوی ابوالعطاء صاحب کے بار بار مطالعہ کے با وجود کہ وہ چلینج کر کر دے دیں نہیں آخر وقت تک تحریر دینے کی جرات نہ ہو سکی۔جو نہی مناظرہ ختم ہوا دہ چہکے سے احمدیوں کے سٹیج پر آکر کہے گئے کہ فساد کا اندیشہ ہے اس وقت تحریر کا مطالبہ نہ کریں مولوی ابو العظام صاحب نے ایک معزز غیر احمدی بابو عبد الستار صاحب کے ہاتھ مندرجہ ذیل تحریر لکھ بھیجی۔میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار سے جو تبلیغ رسالت میں شائع ہو چکا ہے دکھاؤں گا کہ آپ نے لکھا ہے کہ احمد بیگ نکاح کے بعد تین سال بلکہ قریب عرصہ میں مرجائیگا اگرمیں کل مورخہ در ماری شہ کو موضع فجود * میں نہ دکھا سکا تو اپنے وعدہ میں جھوٹا ہونگا۔خاکسار ابو العطاء جالند سری ۲ جالندری بابو عبد الستار صاحب موصوف یہ رقعہ لے کہ معمار صاحب کے پاس پہنچے اور جلد ہی واپس اگر بتایا که معمار صاحب اب اس تھریہ پر بھی فیصلہ کرنا نہیں چاہتے اور حسب ذیل الفاظ میں اپنا بیان لکھ دیا۔یہ اصل میں سید اولاد حسین صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب معمار کے پاس لیکر گیا۔لیکن له الفضل يكم بان هنا صفحه ۲ ۰ ۵۰ تاریخ رسالت جلد اول صفحه ال حاشیه