تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 266 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 266

۲۵۷ اس لئے ان کے فیصلہ کا مجھے انتظار کرنا پڑے گا۔اسی دوران میں پولیس کے بعض نقائص کو بھی انہوں نے تسلیم کیا۔اور جب انہیں بتایا گیا کہ وہ بغیر تلاشی لئے اندر آگئے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ میں خلاف قانون حرکت ہے۔اندرا نہیں اندر نہیں آنا چاہیئے تھا۔مگر انہوں نے کہا کہ میں مجسٹریٹ ہوں اور صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ جب کیکس میرے سامنے آئے تو اس کا فیصلہ کردوں۔پولیس کی کارروائی میں دخل نہیں دے سکتا۔البتہ لڑکے کی ضمانت ابھی لے لیتا ہوں۔ڈی سی صاحب نے کہا۔میں اس بارہ میں تجربہ کار ہوں۔آپ یہ بات نہ کریں کیونکہ اس طرح آپ خود الزام کے نیچے آجائینگے۔پولیس نے ابھی تک آپ کے پاس رپورٹ نہیں کی اور قاعدہ یہ ہے کہ پہلے پولیس رپورٹ کرے۔اور پھر اس پر کسی قسم کا ایکشن لیا جائے۔انہوں نے کہا۔بہت اچھا۔میں انچارج کو بلا لیتا ہوں۔اُن کے ساتھ نائب تحصیلدار تھا۔انہوں نے اُسے بھیجا کہ جا کر تھانیدار انچارج کو بلا لاؤ کہ اس پر دوری شخص آیا جو بے دردی تھا۔مسٹر سلیٹر نے اُس سے پوچھا کہ کیا تم انچارج ہو ؟ اس نے کہا تیں تو دردی میں نہیں میں کس طرح انچارج ہو سکتا ہوں۔انہوں نے کہا اچھا تو پھر کسی دردی والے کو بلاؤ۔اس پر وہ کسی دوسرے کو بلا لایا جو وردی پہنے ہوئے تھا۔اس سے جب پوچھا گیا کہ کیا تم انچارج ہو ؟ تو وہ کہنے لگا میں کس طرح انچارج ہو سکتا ہوں میں تو جونیئر ہوں انچارج تو یہ ہے جو بغیر وردی کے ہے۔اس پر سٹرسلیٹر بھی حیران ہوئے اور انہوں نے اسی شخص سے جو بغیر وردی کے تھا کہا کہ تم اس کیس کے متعلق میرے پاس رپورٹ کرو۔پھر میں اس کا فیصلہ کروں گا۔میں نے اس دوران میں انہیں توجہ دلائی کہ آپ دیکھیں یہ لوگ کسی قسم کی حرکات کر رہے ہیں کہ اصل انچارج بغیر وردی کے ہے اور جو دردی میں ہے وہ انچارج ہونے سے منکر ہے۔اس سے وہ بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ نسپکٹر بیمار تھا۔اگر وہ اچھا ہوتا توش مکہ اس طرح واقعات نہ ہوتے۔خیر وہ بے دردی شخص تو رپورٹ لکھنے کیلئے چلا گیا اور مسٹر سیلٹر انتظار کرتے رہے گر جب دیر ہوگئی ہم نے ان سے کہا کہ آپ تشریف لے جائیے جب رپورٹ آئیگی اور آپ چاہیں گے لڑکے کو آپ کے پاس ضمانت کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔چنانچہ اس پر رضامند ہو کر چلے گئے۔اور کہو گئے کہ ڈی سی بھی شام کو آجائینگے میں نو بجے اطلاع دونگا۔اگر ضرورت ہوئی تو مرزا نظفر احمد خلیل احمد کو نے کر آجائیں میں ضمانت لے ہوں گا۔وہ تو چلے گئے گر پولیس والے برابر ۱۲ بجے سے لیکر سات بجے شام تک رائفلیس لے کر