تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 265
۲۵۶ b یہاں مسٹر سلیٹر ایس ڈی: ہیں۔مرزا مظفر احمد صاحب اُن کے پاس چلے جائیں۔میں نے کہا مظفر احمد کا جانا ٹھیک نہیں۔وہ یہاں گواہ کے طور پر ہیں۔میں درد صاحب اور مرزا ناصر احمد کو بھیجوا دیتا ہوں۔چنانچہ میں نے ان دونوں کو مسٹر سلیٹر کی طرنٹ بھیجوا دیا اور خود ان سپاہیوں سے پوچھا کہ تم میں افسر کون ہے۔اسپر پہلے تو وہ کہنے لگے کہ نہیں پتہ نہیں ہمارا کون افسر ہے۔پھر جب مزید اصرار کیا تو ان میں سے کوئی کہے کہ یہ انسر ہے اور کوئی کہے وہ افسر ہے۔آخر ایک کی طرف اشارہ کر کے وہ کہنے لگے کہ ہم میں سے یہ سب سے بڑا ہے اور وہ بغیر وردی کے تھا۔اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا یکی وردی میں ہی نہیں خلاف شخص ہے۔اس نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ بے دردی شخص سینیٹر ہے میں افسر نہیں۔جب اُسے کہا گیا کہ وہ تو منکر ہے تو اُس نے جواب دیا کہ جیہنوں سمجھ ہو " یعنی جسے چاہیں افسر سمجھے ہیں۔آخر ان ڈپٹی کمشنر صاحب نے ان سے پوچھا کہ تم کو یہ تو بتانا چاہیئے تم میں سے بڑا کون ہے۔اس پر بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی جواب دیا۔غرض اسی قسم کی آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔خیر انہوں نے کہا۔مسٹر سلیٹر ایس ڈی او ابھی آجائیں گے۔ان لوگوں سے بات کرنی نخوا کے آپ اندر چل بیٹھیں۔چنانچہ وہ اور میں اور عزیزم مظفر احمد کمرہ میں بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر میں مسٹر سٹیئر ناصر احمد کے ساتھ آگئے میٹر سلیٹر نے کوٹ اتارا اور بیٹھتے ہی کہا کہ میں پولیس افسر نہیں۔میرے پاس تو جب میں آتا ہے اُس وقت اُسے سنتا ہوں۔وہ مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے۔یونہی پیش نگر کہ کوئی شخص باہر سے یہاں چنا دونوں کے لئے آیا ہوا ہے اور اسے پولیس والوں کے متعلق کوئی شکایت پیدا ہوئی ہے چلے آئے۔میں نے بھی اُن کا شکریہ ادا کیا کہ آپ بغیر اس علم کے کہ کیا واقعہ ہوا ہے اور ہم پر کیا گزری ہے تشریف لے آئے ہیں۔خیر انہیں تمام واقعات بتائے گئے انہوں نے کہا کہ ٹریفتی آف انڈیا رولز کے تحت پولیں بغیر دارنٹ دکھائے گرفتار کر سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر صاحب کہنے لگے ید اختیارات انسپکٹر پولیس یا سب انسپکٹر پولیس کو حاصل ہیں ہر ایک کو حاصل نہیں اس پر مسٹر سلیٹر نے بتایا کہ انسپکٹر پولیس بیمار تھا اور تھانہ دار دورہ پر تھا اُس وقت انچارج ایک ہیڈ کانسٹیبل ہی ہے اس لئے اُسے اختیار حاصل ہے۔پھر وہ واقعات سنتے رہے اور انہوں نے اس پر افسوس کا بھی اظہار کیا۔اور کہا کہ کیا آپ کے نزدیک یہ کافی نہ ہو گا کہ میں انسپکٹر کو کہوں کہ وہ ان لوگوں کے متعلق مناہوپ کار روائی کرے۔میں نے انہیں کہا کہ میں تو اس کے متعلق گورنر صاحب کو بھی تار دے چکا ہوں۔