تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 267 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 267

۲۵۸ ہمارے مکان کے صحن میں کھڑے رہے۔پھر میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اب تم ان سے پوچھو کہ یہ کس قانون کے ماتحت یہاں کھڑے ہیں اور ان سے لکھوا لو تاکہ بعد میں یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو اس وقت تک وہاں نہیں ٹھہرے۔انہوں نے کہا ہم کچھ لکھ کر دینے کے لئے تیار نہیں۔اس پر مرزا عبد الحق صاحب نے کہا کہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ جس طرح تم نے آج جھوٹ بولا ہے۔اسی طرح کل جھوٹ بول دو اور کہہ دو کہ ہم تو وہاں گئے ہی نہیں تھے۔پھر مرزا عبد الحق صاحب پلیڈر نے اُن سے کہہ دیا کہ اگر لکھے کہ نہیں دیتے کہ ہم اس وقت تک بالا افسروں کے حکم سے مکان پر قبضہ کئے ہوئے ہیں تو پھر تمہارا کوئی حق یہاں ٹھہرنے کا نہیں پھر تم نکل جاؤ میں نے مرزا اعصاب سے کہا کہ آپ انہیں یہ نہ کہیں کہ یہاں سے نکل جاؤ کیونکہ ممکن ہے یہ نوگ جا کر یہ رپورٹ کریں کہ ہیں مارا گیا ہے اور بات آخر دیہی منی جائیگی جو یہ کہیں گے۔آجکل چونکہ جنگ ہو رہی ہے۔اس لئے مجسٹریٹوں کا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پولیس والوں کو کیا ضرورت تھی کہ وہ جھوٹ بولتے پس میں نے اُن سے کہا آپ یہ نہ کہیں کہ نکل جاؤ بلکہ کہیں کہ نہیں لکھے کو دیتے تو تمہاری مرضی ہم یہ سکھ میں لگے کہ تم نون وقت تک یہاں ٹھہرے ہو اور دوبارہ ان کی تصویر لے لو بعد اس تصویر پروت بھی لکھ دو کہ اتنے بجے یہ تصویر لی گئی ہے۔آخر شام کو اطلاع کی کہ ایس ڈی او صاحب کے حکم کے مطابق جب پولیس نے رپورٹ کی تو معلوم ہوا کہ جس دفعہ کے ماتحت پولیس والوں نے کاروائی کرنی چاہی تھی اس کے ماتحت کارروائی کرنے کا پولیس کو اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔غرض اُن کی اور بے ضابطگیوں میں ایک بڑی بے ضابطگی یہ بھی پائی گئی کہ میں دفعہ کے ماتحت انہوں نے کاروائی کرنی چاہی اس دفعہ کے ماتحت مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر کارروائی کرنے کا انہیں حق ہی حاصل نہیں تھا۔سنا گیا ہے کہ اس رپورٹ پر ایس ڈی او صاحب نے انچارج ہینڈ کا نشمیل کو بلا کر کہا کہ تم نے اس دفعہ کے ماتحت کہیں طرح کارروائی کی ہے جبکہ کاروائی کرنے کا تمہیں کوئی قوی ہی حاصل نہیں تھا مجسٹریٹ نے کہا۔قانون نہیں اس بات کا اختیار نہیں دیتا البتہ مجسٹریٹ کے حکم سے تم ایسا کر سکتے ہو۔اس کے بعد انہوں نے اُسی وقت آدمی بھیجوا دیا کہ وہاں جو پولیس کھڑی ہے اُسے کہ دیا جائے کہ وہ کوٹھی سے واپس چلے جائیں۔چنانچہ سات بجے شام کو پولیس وہاں سے ہٹی۔رات کو ایس ڈی او صاحب کا پھر ربعہ آیا کہ صبح میں مرزا خلیل احمد کے بارہ میں اطلاع دونگا۔دوست گردن