تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 259
۲۵۰ پتہ لگا کہ یہ گورنمنٹ کے خلاف ہے تو اُس نے بتایا کہ میں نے بغیر گور پھاڑنے کے اندر کے کاغذات نکال کر دیکھے تھے وہ مجھے اس کا مضمون گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوا۔اس پر میں نے بھی غیر بھاری کے اس میں سے کاغذات نکال کر دیکھے تو وہ آسانی سے باہر آگئے اور اس پر نظر ڈالتے ہی مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔نہ صرف اس لئے کہ ایک سطر جوئیں نے پڑھی اس کا مضمون گورنمنٹ کے خلاف تھا بلکہ اس لئے بھی کہ گورنمنٹ کے خلاف جو اشتہارات وغیرہ شائع کئے جاتے ہیں وہ دستی پریس پر چھائے جاتے ہیں اور وہ کا غذات بھی دستی پریس پر ہی چھپے ہوئے تھے اس پیکیٹ کے اوپر جو تہ لکھا ہوا تھا وہ خوشخط لکھا ہوا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی مسلمان نے لکھا ہے۔یہ توئی نہیں کر سکتا کہ اس میں مرزا کا لفظ بھی تھا یا نہیں گراہ صاحبزادہ خلیل احمد ضرور لکھا ہوا تھا حق کا دائرہ بھی بڑا اچھا تھا اور ح کے گوشے بھی خوب نکالے ہوئے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے پتہ کسی مسلمان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔خیر میں نے وہ پیکٹ زرد صاحب کو دیا ور کہا کہ یہ کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے در چونکہ مکی ہے کہ اس قسم کے ٹریکٹ تمام پنجاب کے نوجوانوں میں عام طور تقسیم کئے جارہے ہوں اس لئے آپ فورا یہ پیکٹ ہرا کسی ایسی گورنر صاب پنجاب کو بھجوا دیں اور انہیں لکھ دیں کہ میرے لڑ کے خلیل احمد کے نام ایسا پیکٹ آیا ہے۔اور چونکہ ممکن ہے کہ اور پنجاب کے نوجوانوں کے نام بھی اسی طرح ٹریکٹ اور اشتہارات وغیرہ بھیجے گئے ہیں اس لئے یہ پیکیٹ آپ کو بھجوایا جاتا ہے آپ اس کے متعلق جو محکمانہ کاروائی کرنا مناسب سمجھیں کریں۔میں یہ بات کر کے واپس ہی لوٹا تھا کہ ایک آدمی نیچے سے آیا اور درد صاحب سے کہنے لگا کہ پولیس والے آئے ہیں اور وہ آپ کو بلاتے ہیں۔میں نے اس آدی کو نہیں دیکھا کیونکہ وہ سیڑھیوں کے موڑ کے پیچھے تھا۔یہ بات سن کر میں نے درد صاحب سے کہا کہ آپ جائیں اور جاکر معلوم کریں کہ پولیس والے کیا کہتے ہیں۔درد صاحب گئے اور تین چار منٹ کے بعد ہی واپس آگئے۔انہوں نے مجھے کہا کہ پولیس کے کچھ سپاہی آئے ہوئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مرزا خلیل احمد صاحب سے لیا ہے۔مرد صاحب کہنے لگے کہ میں نے انہیں کہا کہ خلیل تو بچہ ہے اُس سے آپ نے کیا بات کرتی ہے۔جو کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں وہ مجھے لکھ کر دیدیں اگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ ہم اُسی سے با کرنا چاہتے ہیں اور اس کا میں کچھ ٹھیک نہیں دے سکتے۔دردہ صاحب کچھ اور باتیں بھی کرنا چاہتے تھے