تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 258
یه ایم واقعه دار بوگ هنر را در تیرا ) کو پیش آیا جبکہ حضور ڈلہوزی میں تبدیلی آب وہوا کے لئے تشریف فرما تھے۔واقعہ ڈلہوزی کی تفصیل یا یہ واقعہ جسے ہم اشارہ واقعہ ڈراموزی کے نام سے موسوم کریں گے اپنی اہمیت کے لحاظ سے تقاضا کرتا ہے کہ اس کی تفصیلات خود حضرت حضر امر المومنین کے الفاظ میں یرالمونین کی زبان مبارک سے بیان کی جائیں حضور نے دور کے کو اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ : بارہ بجے کا وقت تھا کہ میرا لڑکا خلیل احمد جس کی عمر اس وقت یو نے سترہ مثال ہے میرے پاس آیا اُس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا جو بند تھا۔وہ پیکٹ گول تھا اُس کے باہر ایک کاغذ پٹا ہوا تھا اور اُس کا غذ پر اس کا پتہ لکھا ہوا تھا۔خلیل احمد نے وہ پیکٹ مجھے دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ پیکٹ کسی نے میرے نام بھجوایا ہے اور گورمنٹ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔میں نے وہ پیکٹ اُس کے ہاتھ سے لے لیا اور چونکہ وہ بند تھا اس لئے طبعا مجھے خیال پیدا ہوا کہ اسے کیونکر معلوم ہوا کہ یہ پیکٹ گورنمنٹ کے خلافت ہے۔چنانچہ میں نے اس سے کہا یہ پیکٹ تو بند ہے تمہیں کیو نکر معلوم ہوا کہ اس میں کوئی ایسے کا غذات ہیں جو گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔اُس نے کہا کہ اس پیکٹ کا خول کچھ ڈھیلا سا ہے میں نے بغیر اوپر کا گو پیمانے کے اندر سے کاغذات نکال کر دیکھنے کو معلوم ہوا کہ اس میں گورنمنٹ کے خلاف باتیں لکھی ہوئی ہیں۔اس پر میں نے بھی دیکھا تو واقعہ یں اور کچھ ڈھیلا سا تھا۔پھر تجربہ کے طور پرمیں نے بھی بخیر گور پھاڑنے کے اس میں سے کاغذات نکا سے ور مجھے نورا معلوم ہوگیا کہ خلیل احمد جوکچھ کہتا ہے ٹھیک ہے میں نے وہ اشتہار سب کا سب انہیں پڑھا بلکہ صرف ایک نظر دیکھی اسکا مضمون کچھ اس قسم کا تھا کہ گورنمنٹ نے بعض ہندوستانی سپاہیوں کو کسی جگہ مروا دیا ہے۔غرض بغیر اس کے کہ میں اس اشتہارہ کو پڑھنا صرف ایک سطر دیکھ کر اور خلیل احمد کی بات کو درست پا کرمیں نے وہ پندا گورمیں ڈال دیا اور نقد صاحب کی طرف آدمی بھیجوایا کہ وہ فورا مجھ سے آگر میں۔درد صاحب ایک دو منٹ بعد ہی سیڑھیوں پر آگئے۔میں سیڑھیوں میں اُن کے پاس گیا اور میں نے ان کے ہاتھ میں، وہ پیکٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیکٹ خلیل احمد کے نام آیا ہے اور اس نے مجھے ابھی اگر دیا ہے اُس نے مجھے بنایا تھا کر یہ پیٹ گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ نہیں کسی طرح