تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 260
۲۵۱ گر میں نے اس خیال سے کہ معمولی بات ہے اُن سے کہا۔کوئی حرج کی بات نہیں میں خلیل کو بھجوا دیتا ہوا چنانچہ میں نے اُسی وقت خلیل احمد کو بھجوا دیا۔چند منٹ کے بعد ہی خلیل احمد واپس آیا اور اُس نے مجھے کہا کہ سپاہیوں نے مجھ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا اس قسم کا پیکٹ تمہارے نام آیا ہے اور میں نے کہا کہ ہاں آیا ہے مگر میں نے اپنے آبا کو دے دیا ہے۔پھر پولیس والوں نے اس پیکٹ کی طرف اشارہ کرکے وجود تو صاحب نیچے لے گئے تھے، کہا کہ پیکٹ اپنے ہاتھ میں لے کر کھول دور گھر میں نے کہا کہ میں اسے نہیں کھول سکتا خلیل احمد سے جب یہ بات میں نے سنی تو میں نے کہا کہ تم نے بہت اچھا گیا ریکٹ اپنے ہاتھ سے نہیں کھولا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ہاتھ سے پیکٹ کھلوانے کا منشاء یہ تھا کہ وہ شرارتا اس طرح اپنی کا نفس کو یہ تسلی دلانا چاہتے تھے کہ انہوں نے خلیل کے ہاتھ سے یہ پیکٹ لیا ہے۔خیر وہ بات کر کے ہٹا تو اُسی وقت درد صاحب نے سیڑھیوں پر سے آواز دی اور میرے جانے پر انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے مجھے سے وہ پیکٹ مانگا تھا مگر میں نے دینے سے انکار کر دیا اوران سے کہا کہ تم مجھے وہ قانون بتاؤ جس کے ماتحت تم مجھ سے یہ پیکٹ لینا چاہتے ہو۔پھر ین نے من سے آپ کا نام لے کر کہا کہ مجھے خلیفہ اسی کی طرف سے یہ پیکٹ ایک بڑے فسر کو بھجوانے کیلئے ملا ہے اس لئے بھی یہ پیکٹ تمہیں نہیں دے سکتا۔اس پر انہوں نے دو پیکٹ مجھ سے چھین کر باہر پھینک دیا اور ایک سپاہی اسے لیکر بھاگ گیا۔میں نے پھر جلدی میں اُن کی پوری بات نہ سنی اور میں سمجھ گیا کہ یہ ہم سے شرارت کی گئی ہے۔چنانچہ میں نے ان پر اگر گورنر صاحب کو ایک تاریکھا جس میں وہ اہم واقعات جو اس وقت تک ہوئے تھے لکھے دیتے۔یہ تارے کہ میں پھر سیڑھیوں میں آیا تو اس وقت درد صاحب واپس جا چکے تھے میں نیچے اتر کر ٹھیک میں آیا تو میں نے دیکھا کہ ہماری کوچ اور کرسیوں پر پولیس والے اپنی لاتیں دراز کر کے یوں بیٹھے ہیں کہ گویا ان کا گھر ہے میں جھٹ دروازہ بند کر کے برآمدہ کی طرف سے دفتر کے کمر میں آیا تو میں نے دیکھا کہ برآمدہ مں بھی پی لے کھڑے ہیں۔خیر میں نے درد صاحب کو تار دیا اور کہا کہ یہ ابھی گورنر صاحب کو بھیجوا دیا جائے۔پھر میں گورنر صاحب کو ایک مفصل چٹھی لکھنے بیٹھے گیا۔اس عرصہ میں دو دفعہ مجھے پھر نیچے جانا پڑا۔ایک دفعہ تو میں درد صاحب کو یہ کہنے کے لئے گیا کہ آپ اس تار کا مضمون پولیس کے سپاہیوں کو بھی سنادیں اور اُن سے پوچھ لیں کہ اس میں کوئی غلط بات تو بیان نہیں کی گئی اور اگر کسی واقعہ کا وہ انکار کریں تو "