تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 240
۳۳۱ مشہور سکھ اخبار ریاست ارجون 1 نے اس پر حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا۔رام القوام اور غلام ممالک کے کیر کیر کا م ہے کمزور پہلو یہ ہوتا ہے کہ ان کے فواید اخلاقی سچائی اور جرات سے محروم ہو جاتے ہیں اور چاپلوسی جھوٹ خوشامد اور بزدلی کی سپر سٹائن میں نمایاں ہو جاتی ہے۔عراق کا رشید علی برطانوی حکومت یا برطانوی رنایا کے نقطۂ نگاہ سے غلطی پر ہو یا اس کا برطانیہ سے جنگ کرنا غیر مناسب ہو گہر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ شخص اپنے ملک کی سیاسی آزادی کے لئے لڑ رہا گیا اور اس کو سی قیمت پر بھی اپنے ملک کا غدار یا ٹریٹر قرارنہیں دیا جاسکتا۔مگر ہمارے غلام ملک کے دالیان ریاست اور ٹینڈروں کا کیریکٹر دیکھئیے جو والی ریاست عراق کے متعلق تقریر کرتا ہے رشید علی کو نقدار کہ کر پکار رہا ہے اور جو لیڈر جنگ کے متعلق بیان دیتا ہے سب سے پہلے وہ رشید علی کو یر قرار دیتا ہے اور پھر اپنے بیان کی بس اللہ کرتا ہے۔اور ان انبیائی ریاست اور لیڈروں کا کیریکٹر غلامی کے باعث استقدر بہت ہے کہ یہ غلط خوشامد اور چاپلوسی کو ہی ملک یا حکومت کی خدمت سمجھ رہے ہیں۔ہمارے والیان ریاست اور لیڈروں کی اس احمقانہ خوشامد کی موجودگی میں قادیان کی احمدی جماعت کے پیشوا کی اخلاقی جرات آپ کا بلند کیریکٹر اور آپ کی صاف بیانی بچسپی اور مسرت کے ساتھ محسوس کی جائیگی جس کا اظہار آپ نے پچھلے ہفتہ اپنی ریڈیو کی ایک تقریر میں کیا ہے فصل دوم راحمد منا کپور تھلویکا وصال مال میں لایا اور مایہ نے افعال کی ان میں جن القدر صحابہ حضرت منشی ظفر احمدرضا کا سے متار اور رہے قدیم اور انتہائی پاک نفس بزرگ حضرت مدنی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی تھے جنہوں نے ششماہ میں لدھیانہ کی بیدات ان کی تم پر حقیر نشی اور اعصاب کے بعد جمعیت کا شرفت حاصل کیا اور ساری عمر سلسلہ احمدیہ کی نہایت درجہ عاشقانہ اور والہا نہ خدمات بجا لانے کے بع۔ظہور : لاء کی صبح کو انتقال فرما گئے۔فرما۔۲۰ ی پست ۶۱۵۲۳۱ جماعت احمدیہ کی کوئی تاریخ آپ کے تذکرہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔حضرت مسیح موعود بر است این ۱۳۱۳ می یاب raitor دغا باز۔ه الفضل ، باق الذ + سور کامران اور میرا کام ہو ۲ ہے کے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد چہارم مرتبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے تادیات