تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 239 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 239

۲۳۰ بھٹوں کا نہیں کام کا ہے ، اس وقت ہر ایمان کو چاہیے کہ اپنے ہمسایوں کو اس خطرہ سے آگاہ کرے بجود عالیم اسلام کو پیش آنے والا ہے تاکہ ہر سلمان اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور جو قربانی بھی اُس سے ممکن ہو اُسے پیش کردے۔جنگ کے قابل آدمی اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کریں اور ر پیر والے لوگ روپیہ سے اور اہل دین ، اہل قلم اپنی علمی قوتوں کو اس خدمت میں لگا دیں اور جس سے اور کچھ نہیں ہو سکتا وہ کم سے کم دُعا کرے کہ اللہ تھانے اس بینگ سے اسلامی ملکوں کو محفوظ رکھے۔ہمارے جن بھائیوں سے غلطی ہوئی ہے اُن کی آنکھیں کھول دے کہ وہ خود ہی پشیمان ہو کر اپنی غلطی کا ازالہ کرنے میں لگ جائیں۔میرے نزدیک عراق کا موجودہ فتنہ صرف مسلمانوں کے لئے تازیانہ تینیہ نہیں بلکہ ہندوستان کی تمام اقوام کے لئے تشویش اور فکر کا موجب ہے کیونکہ عراق میں جنگ کا روازہ کھلنے کی وجہ سے جنگ ہندوستا کے قریب آگئی ہے اور ہندوستان اب اس طرح محفوظ نہیں رہا جس طرح کہ پہلے تھا۔جو فوج عراق پر تابض ہو عرب یا ایران کی طرف سے آسانی سے ہندوستان کی طرف بڑھ سکتی ہے۔پس ہار دوستان کی تمام اقوام کو اس وقت آپس کے جھگڑے بھلا کو اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر بر خانومی حکومت کی امداد کرنی چاہیئے کہ یہ اپنی ہی امداد ہے۔شاید شیخ رشید علی میلانی کا خیال ہو کہ سابق عالمگیر جنگ میں عربوں کو یقین دیا گیا تھا کہ ایک متحد عرب حکومت کےقیام میں ان کی روکی جائیگی گر ہوا یہ کہ عرب و پہلے ترکوں کے ماتحت کم سے کم ایک قوم تھے اب چارپانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔بے شک انگریز وں نے عراق کو ایک حد تک آزادی دی ہے مگر عربوں نے بھی سابق جنگ میں کم قربانیاں نہ کی تھیں۔اگر اس غلطی کے ازالہ کا عہد کر لیا جائے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ سب اسلامی دنیا متحد ہو کر اپنے علاقوں کو جنگ سے آزاد رکھنے کی کوشش کرے گی۔۔- راس جنگ کے بعد پولینڈ اور زیکو لوکیہ کی آزادی ہی کا سوال حل نہیں ہونا چاہیئے بلکہ متحدہ عرب کی آزادی کا بھی سوال حل ہو جانا چا ہیئے۔۔شان مین اور عرق کو ایک متد او آزاد کو دو پر رتی کی ا وع ا نا چاہئے۔انصاف اس کا تقاضا کرتا ہے بلد اخبار ریاست ربی کا تبصرہ یہ نشری تقریر لک کے مختلف حلقوں میں بہت پسند کی گئی ٹیچنا نچہ دہلی کے ۱۳۲ له الفضل ۲۰ بحرت ه صفراد ۲ + ۵۲ اخبار اصلاح ۱۲۹ مئی ۱۹۴۷ء متعمدا ۶۱۹۴۱