تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 5 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 5

کہ کتنی اہم ذمہ داری ہے جو جماعت نے اپنے اوپر عائد کی۔اگر ہم پہلی فصل نہ کاٹتے تو ہماری ذمہ داریاں کم تھیں۔مگر جب ہم نے اس فصل کو کاٹ کر الْحَمدُ لله کہا تو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعین کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا سامان بھی ہمیں مہیا کرنا پڑا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس جلسہ کے نتیجہ میں ہم نے لاکھوں نئے بیج زمین میں بو دیئے ہیں۔اب ہمارا فرض ہے کہ اگلے پچھیں یا پھانش سال میں ہم جماعت میں حیرت انگیز طور پر تغیر پیدا کریں۔کیا بہ لحاظ آدمیوں کی تعداد کے اور کیا بہ لحاظ مالی قربانی کے اور کیا یہ لحاظ تبلیغ کے اور کیا بلحاظ تربیت کے اور کیا بلحاظ تعلیم کے۔آج سے مثلاً پچیس یا پچاس سال کے بعد اگر ہم نئی فصل کے ویسے ہی شاندار نتائج نہ دکھائیں جیسے پہلی پچاس سالہ فصل کے نتائج نکلے تو ہماری احمد بے معنی اور ہماری اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين جھوٹی ہو جاتی ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس بجلسہ کے بعدان کو اپنی نئی زور دار یا بہت جوش اور توجہ کے ساتھ ادا کرنی چاہئیں۔اب ہماری پہلی فصل کے جو نتائج رونما ہوئے ہیں ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ اگر اس سے زیادہ نہیں تو کم سے کم اتنے ہی گئے نتائج نئی فصل کے ضرور رو نما کر دیں۔اور اگر پہلے ایک سے لاکھوں ہوئے تو۔آج سے پچاس سال بعد وہ کروڑوں ضرور ہو جائیں۔اگر آج سے پچیس سال پہلے جماعت دس بارہ گئے بڑھی تھی ، تو اگلے پچیس سال میں کم سے کم دس بارہ گئے ضرور بڑھ بھانی چاہیئے۔مگر یہ کیونکہ ہو سکتا ہے جب تک ہر احمدی کیا مرد اور کیا عورت اور کیا بچہ اور کیا بوڑھا ، اور کیا کمزور اور کیا مضبوط ، اپنے ذمہ یہ فرض عائد نہ کرلے کہ میں احمدیت کی ترقی کے لئے اپنے اوقات صرف کروں گا اور اپنی زندگی کا اولین مقصد اشاعت دین اور اشاعت احمدیت سمجھوں گا نہ اسی طرح علمی طور پر کب ترقی ہو سکتی ہے جب تک ہماری جماعت کا ہر فرد دین سیکھنے اور دینی باتیں سننے اور پڑھنے کی طرف توجہ نہ کرے۔اسی طرح مالی قربانی میں کب ترقی ہو سکتی ہے جب تک ہماری جماعت نہ صرف قربانیوں میں بیش از پیش ترقی کرے بلکہ اپنے اخراجات میں بھی دیانتداری سے کام لے۔مال ہمیشہ دونوں طرح سے بڑھتا ہے۔زیادہ قربانیوں سے بھی بڑھتا ہے اور زیادہ دیانتداری سے خرچ کرنے سے بھی بڑھتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعہ ایک