تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 6
شخص کو ایک دینار دیا اور فرمایا جاکر قربانی کے لئے کوئی عمدہ سا بکرا نا دو۔اس نے کہا بہت اچھا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ حاضر ہوا اور کہنے لگا۔یا رسول اللہ یہ بکرا موجود ہے اور ساتھ ہی اس نے دینار بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حیران ہوئے اور فرمایا " یہ کس طرح ؟“ وہ کہنے لگا۔یا رسول اللہ مدینہ میں شہر کی وجہ سے چیزیں گراں۔ملتی ہیں۔میں دس بارہ میل باہر نکل گیا۔وہاں آدھی قیمت پر بکرے فروخت ہو رہے تھے میں نے ایک دینار میں دو بکرے لے لئے اور واپس چل پڑا۔جب میں آرہا تھا تو رستہ میں ایک شخص مجھے ملا۔اسے بکرے پسند آئے اور کہنے لگا اگر فروخت کرنا چاہو تو ایک بکرا مجھے دے دو۔میں نے ایک بکرا ایک دینار میں اُسے دے دیا۔پس اب بکر ابھی حاضر ہے اور دینار بھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت ہی خوش ہوئے اور آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی کہ "خدا تجھے برکت دے" صحابہ کہتے ہیں کہ اس دعا کے نتیجہ میں اُسے ایسی برکت ملی کہ اگر وہ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتا تو وہ سونا بن جاتی اور لوگ بڑے اصرار سے اپنے روپے اُسے دیتے اور کہتے کہ یہ روپیہ کہیں تجارت پر لگا دو۔غرض کروڑوں کروڑ روپیہ اُسے آیا۔تو اچھی طرح خرچ کرنے سے بھی مال بڑھتا ہے۔مال بڑھنے کی صرف یہی صورت نہیں ہوتی کہ ایک کے ڈوبن جائیں بلکہ اگرتم ایک روپیہ کا کام اٹھتی میں کرتے ہو تو بھی تمہارے دو بن جاتے ہیں۔بلکہ اگرتم روپیہ کا کام اٹھتی میں کرتے ہو اور ایک روپیہ زائد بھی کما لیتے ہو تو تمہارے دو نہیں بلکہ بہار بن جائیں گے پس صرف یہی کوشش نہیں ہونی چاہئیے کہ مالی قربانیوں میں زیادتی ہو بلکہ اخراجات میں کفایت کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے اور میں کارکنوں کو بالخصوص اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایک روپیہ کا کام اٹھتی میں کرنے کی کوشش کیا کریں۔غرض اب جو ہمارے پاس جماعت موجود ہے، اب جو ہمارے پاس روپیہ ہے، اب جو ر پاسی تلی سان ہیں، اب جو ہماری دنیا می شن قائم ہیں، اب جو ہماری تعلیم اعصاب جو ہماری تربیت ہے ، ان سب کو نیا بنچ تصور کر کے آئندہ پچاس سال میں حیات کی ترقی کے لئے سرگرم جد وجہد کرنی چاہیئے تاکہ آئندہ پچاس سال میں موجودہ حالت سے ہماری تعداد بھی بڑھ بھائے ، ہمارا مال بھی بڑھ جائے ، ہمارا علم بھی بڑھ جائے، ہماری تبلیغ بھی بڑھ جائے۔اور اسی نسبت سے بڑھے جیس نسبت سے وہ پہلے پچاس سال