تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 237 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 237

VYA قت ام ابوحنیفہ اور ام روایت کو تقویت نے، جنید شبلی اور سید عبدالقادرجیلانی کو تاریخ نے بعد ارمین بن قیم کو علم تدریس نے ، نظام الدین خوشی کو ادب نے ، مبرو، سیبویہ جزیہ اور فرزدق کو سامنے ہارون - مامون اور ملک شاہ جیسے لوگوں کو جو اپنے اپنے دائرہ میں یاد گار زمانہ تھے اور ہمیں ایک ایک گر کے آنکھوں کے سامنے لاکر اس طرح کھڑا کیا کہ اب تک اُن کے کمالات کے مشاہدہ سے دل امید سے پر ہیں اور افکار بلند پردازیوں میں مشغول۔ان کمالات کے مظہر اور دلکشیوں کے پیارا کرنے والے عراق میں فتنہ کے ظاہر ہونے پر سلمانوں کے ول وکھے بغیر کسی طرح رہ سکتے ہیں، کیا ان ہزاروں بزرگوں کے مقابہ جو دنیوی نہیں روحانی رشتہ ہے ہمارے ساتھ منسلک ہیں ان پر بمباری کا خطرہ ہیں بے فکر رہنے دے سکتا ہے ؟ عراق شستی اور شیعہ دونوں کے بزرگوں کے مقدس مقامات کا جامع ہے۔وہ مقام کے لحاظ سے بھی اسلامی دنیا کے لب میں واقع ہے۔پس اس کا امن ہر سلمان کا مقصود ہے۔آج وہ اس خطرہ میں پڑ رہا ہے اور دنیا کے مسلمان اس پر خاموش نہیں رہ سکتے اور خاموش نہیں ہیں۔دُنیا کے ہر گوشہ کے مسلمان را موقت گھبراہٹ ظاہر کر رہے ہیں اور ان کی یہ گھبراہٹ بجا ہے کیونکہ یہ جنگ جس کے تصفیے کی افریقہ کے حراء امیر ترین کے سند میں امید کی جاتی تھی اب وہ مسلمانوں کے گھروں میں لڑی جائینگی۔اب ہماری مساجد کے بھی اور ہمارے بزرگوں کے مقابر کے احاطے اس کی آماجگاہ بنینگے۔اور یہ سب کو معلوم ہے کہ جرمنوں نے جن ملکوں پر قبضہ جما رکھا ہے ان کی کیا حالت ہو رہی ہے۔اگر شیخ رشید علی حسینانی اور ان کے ساتھی جرمنی سے ساز باز نہ کرتے تو اسلامی دنیا کے لئے یہ خطرہ پیارا نہ ہوتا۔اس فتنہ کے نتیجہ میں رکی گر گیا ہے، ایران کے دروازہ پر جنگ آگئی ہے ، مشام جنگ کا راستہ بن گیا ہے ، عراق جنگ کی آماجگاہ ہو گیا ہے، افغانستان جنگ کے دروازہ پر کھڑا ہوا ہے، اور مری کے بڑا نظرہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ مقامات جو تمہیں ہمارے وطنوں ہماری جانوں ، اور ہماری عزتوں سے بھی زیادہ عزیہ یا جنگ ، ان کی بین سرحد تک آگئی ہے۔وہ بے فصیلوں کے مقدس مقامات و ظاہری حفاظت کے سامانوں سے خالی جگہیں جن کی دیواروں سے ہمارے دل شک رہے ہیں۔اب بمباروں اور چھنڈیانی طیاروں کی زد میں ہیں۔اور یہ سب کچھ ہمارے ہی چند بھائیوں کی غلطی سے ہوا ہے کیونکہ اُن کی اس غلطی سے پہلے جنگ ان مقامات مقدسہ سے سینا گلیوں میں، پر سے تھی۔