تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 238
۲۲۹ ان حالات میں ہر سلمان کا فرض ہے کہ وہ اس فتنہ کو اس کی ابتداء میں ہی دیا دینے کی کوشش کرے ابھی وقت ہے کہ جنگ کو پرے دھکیل دیا جائے کیونکہ ابھی تک عراق اور شام میں جرمنی اور اٹلی کی قومیں کسی بڑی تعداد میں داخل نہیں ہوئیں اگر خدانخواستہ بڑی تعدادمیں وہیں یہاں داخل ہوگئیں تو یہ کام آسان نہ رہیگا۔جنگ کی آگ سرعت کے ساتھ عرب کے صحراء میں پھیل جائے گی۔اس فتنہ کا مقابلہ شیخ رشید علی صاحب یا مفتی یور مسلم کو گالیاں دینے سے نہیں کیا جاسکتا، انہیں غدار کہار ہم اس آگ کو نہیں مجھا سکتے ہیں شیخ رشید صاحب کو نہیں جانتالیکن مفتی صاحب کا ذاتی طور پر را تقف ہوں۔میرے نزدیک وہ نیک نیت آدمی ہیں اور ان کی مخالفت کی یہ وجہ نہیں کہ ان کو جرمنی والوں نے فریاد لیا ہے بلکہ اُن کی مخالفت کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اگ عظیم میں جو وعدے اتحادیوں نے عنوں سے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔وہ لوگوں کو برا کہنے سے صرف یہ نتیجہ نکلے گا کہ اُن کے قاف اور دوست اشتعال میں آجائینگے کیونکر جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنے تجربے کی بناء پر دیانتدار سمجھتا ہے تو جب کوئی اس دوسرے شخص پر بدیانتی کا الزام لگائے تو خواہ اس فعل کی وجہ سے بد دیانتی کا الزام لگایا گیاہے براہی کیوں نہ ہو چونکہ اس پہلے شخص کے نزدیک وہ فل بد دیانتی کے باعث سے نہیں ہوتا وہ اس الزام کی وجہ سے جسے وہ غلط خیال کرتا ہے اس دوسرے مجر مشخص سے ہمدردی کرنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے افعال میں شریک ہو جاتا ہے۔پس ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کو جو عالیہ اسلامی میں شیخ رشید اورمفتی اور شام سے سن بینی رکھتے ہیں ٹھو کر اور ابتداء سے بچانے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ اس نازک موقع پر اپنی طبائع کو جوش میں نہ آنے دیں اور جو بات کہیں اس میں صرف اصلاح کا یہ جو مد نظر جو اظہار غصب مقصود نہ ہو تاکہ فتنہ کم ہو بڑھے نہیں۔یو رہے کہ اس فتنہ کے بارہ میں اس قدر مجھے لینا کافی ہے ک شیخ رشید علی صاحب اور ان کے رفقاء کا یہ فصل اسلامی ملکوں اور اسلامی مقدس مقامات کے امن کو خطرہ میں ڈالنے کا موجب بنتا ہے ہمیں ان کی نیتوں پر حملہ کرنے کا نہ حق ہے اور نہ اس سے کچھ فائدہ ہے اس وقت تو سلمانوں کو اپنی ساری طاقت اس بات کے لئے شریح کر دینی چاہئیے کہ عراق میں پھر امن ہو جائے۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ مسلمان جان اور مال سے انگریزوں کی رو گریں اور اس فتنہ کے پینے اور بڑھنے سے پہلے ہی اس کے دہانے میں اُن کا ہاتھ بٹائیں تاکہ بینگ مدینہ منورہ اور گر کر قید سے دُور رہے اور ترکی ایرانی اطراق اور شام اور فلسطین اس خطرناک آگ کی پیٹوں سے محفوظ رہیں۔یہ وقت وقت