تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 236 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 236

۲۲۷ سفر ابریل سفر سنده حضرت ایران نی نی یا نانی یاسای سند تشریف لے گئے اور ہر رات کو ردانہ ہونے اور ا سے ہجرت کو واپس قادریان دار الامان میں تشریف لائے کیے حضور ہیں سفر کے دوران ت پیش کو معہ اہلبیت بندی کار ناصر آباد سے کراچی تشریف لے جا رہے تھے کہ ہتھور دا شیش سفر ری ۶۱۹۴۱ کے راستہ میں کار کو ایک خطرناک حادثہ پیش آیا۔گر حضور معجزانہ طور پرمحفوظ رہے کہ حضر امیر المومنین کی آل انڈیا ریڈیو نے دوسری جنگ عظیم کے دوران شو سلام ملت عراق کو ایک نئی مصیبت سیشن سے حالا عراق کی نسبہ کی کا سامنا کرنا پڑا۔یہاں شیخ رشید، علی جیلانی اور ان کے ساتھیوں نے شورش برپا کر دی جس پر سلمانان عالم نے سخت نفرت و حقارت کا اظہار کیا شیخ رشید علی کے طرز عمل سے نازی طاقتوں کی حوصلہ اخترائی ہوئی اور عالم اسلام کے مقدس ترین مقامات خطرہ میں گھر گئے۔ان حالات میں حضرت امیر المومنین خلیفة أسرع انسانی نے خاموش رہنا گوارا نہ فرمایا اور ان کی نظم کو آٹھ بج کر پچاس منٹ پر اے ریڈیوٹی سے عراق کے حالات پر تبرہ" کے عنوان سے ایک اہم نظریہ فرمائی جسے دہلی اور لکھنڈ کے سٹیشنوں نے بھی نشر کیا۔اس تقریر کا تمن در ج ذیل کیا جاتا ہے۔عراق رانی موجودہ شورش دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بھی اور ہندوستانیوں کے لئے مسود تشویش کا موجب ہو رہتا ہے۔عراق کا دارالخلافہ بغداد اور اس کی بندرگاہ بقرہ اور اُس کے تیل کے چشموں کا مرکز موستل ایسے مارت میں مین کے تاہم ایک مسلمان بچپن ہی سے روشناس ہو جاتا ہے۔بنوعباس کی حکومت علوم وفنون کی ترقی کو با نظر رکھتے ہوئے طبعا مسلمانوں کے لئے ایک خوشکن یاد گار ہے لیکن الف لیلہ جو عرفی معنوم کی طرف توجہ کرنے والے بچوں کی بہتر ہی درست ہے اُس نے تو بغداد اور بصرہ اور موصل کو ائی سے اس طرح روشناس کر رکھا ہے کہ آنکھیں بند کرتے ہی بغداد کے بازار اور بصرہ کی گلیاں اور موصل کی ڑکیں اُن کے سامنے اس شرح آکھڑی ہوتی ہیں، گویا کہ انہوں نے ساری عمر انہی میں بسر کی ہے۔میں اپنی نیست تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ بچپن میں بغداد اور بصرہ مجھے منڈی اور پیرس سے کہیں زیادہ دلکش نظر آیا کرتے تھے کیونکہ اول الذکر میرے علم کی دیواروں کے اندر ضد تھے اور ثانی الذکر میری قوت واہمہ کے ساتھ تمام عالم میں پرواز کرتے نظر آتے تھے۔جب ذرا یہ ہوئے تو علم حدیث نے امام احمد بن عبیل کو فقر هنا اه الفضل در شهادت ماه صفر ۲ کام ۳ الفضل ابرات ما الفضلات هنا صفوا كالم ٣ - الفضل ۱۵ بحجرت من صفر ، کالم ) ۱۹۳۱ متحد به ظالم ہے