تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 235
۲۲۶ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ان کی زندگیاں بہت قیمتی ہیں اور جتنا کام وہ کر سکتے ہیں دو سر نہیں کر سکتے ، اس نے اُن کو کوشش کرنی چاہیئے کہ مرنے سے قبل احمدیت کو مضبوط کر دیں تا دنیا کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ مصلوۃ والسلام کے صحابہ نے ایسی محنت سے کام نت سے کام کیا کہ احمدیت کو دنیا میں پھیلا کر مرے ہیں حضرت امیر المومنین کا خطاب اقدام الاحمدی کا تیسرا سالن اجتماع و تبلیغ نادر شاهی فروری ۶۱۹۳۷ اتصلے میں منعقد ہوتا ہے جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے نماز ام الاحمدیہ کے میسر سالانہ اجتماع کے بعد ایک نہایت این ارز خطاب فرایا اورنوجوانان احمدیت کو خاص طور پر اس طرف توجہ دلائی کہ :-۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے اس لئے بھیجا ہے کہ اپنی زندگیوں میں اسلامی تعلیم کا کامل نمونہ پیش کر کے توڑا ور اس تہذیب اور تمدن کی عمارت کو جو اسوقت ا دنیا میں اسلام کے خلاف گھڑی ہے اٹکڑے ٹکڑے کردو اس قلعہ کو تو شیطان نے اس میں بنا لیا ہے اُسے زمین کے ساتھ لگا دو بلکہ اس کی بنیادیں تک اکھیڑ کر پھینک دو۔اور اس کی جگہ وہ عمارت کھڑی کرو جس کا نقشہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دیا ہے۔یہ کام حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا اور اس کام کی اہمیت بیان کرنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تقریر کی ضرورت نہیں ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کے جس گوشہ میں ہم جائیں، دنیا کی جس گلی میں ہم گذریں دنیا کے جس گاؤں میں ہم اپنا قدم رکھیں وہاں ہیں جو کچھ اسلام کے خلاف نظر آتا ہے اپنے ایک نمونے اُسے مٹاکر اس کی جگہ ایک ایسی عمارت بنانا جو قرآن کریم کے بنائے ہوئے نقشہ کے مطابق مو ہمارا کام ہے۔میں تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا چین اور تمہارا طور اور تمہارا طریق اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشا کو پورا کرنے والا ہو سکتا ہے جبکہ تم دنیا میں خدا نما وجود نبود اور اسلام کی اشاعت کے لئے کفر کی ہر طاقت سے گھر لینے کے لئے تیار رہو اکہ كان الفضل سيار در را جوری ۶۱۹۴۱ I صفحه به کام را ے اس اجتماع کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں پہلی بار بیردانا دائم بھی شرکت کی۔بات یہ تقریر الفضل ۴ - ۳-۶-۷ اکتوبر میں اقساط شائع ہوئی۔اجار د الفضل در انو ۳۳۹ روش صفحه ۲ کالم