تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 233 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 233

دل میں احمدی ہو چکا تھا۔زمین تو پہلے تیار تھی۔صرف بیج ڈالنے کی دیر تھی جو " انقلاب حقیقی نے ڈال دیا۔اور خدا کی رحمت یکبارگی مجھ پر نازل ہو گئی۔پہلے میں نے احمد یہ لٹریچر کا مطالعہ ایک مخالفانہ نکتہ نگاہ سر کیا ہوا تھا۔وہ تمام مطالعراب یکدم مجھ پر کریمانہ انداز سے جھپٹا اور میں شکار ہو گیا۔مجھے اپنے آپ خو یقینی نہ آتا تھا۔میری رگ رگ میں ایک بہیجان بپا تھا اور مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ابھی ابھی میری روح میرے جسم کو چھوڑ دے گی جس طرح اچانک کسی ہتھیلی پر جھلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا جائے اور وہ اس اثر سے تلملانے لگے یہی حال میری روح کا تھا۔عید قربان کی نماز جامع احمدیہ سیالکوٹ میں اور کی اور گھر آکر بیعت کا فارم پر کر کے امیر جماعت احمدیہ سیالکوٹ کو بھیجدیا۔جس کے زیر عنوان مندرجہ ذیل فی البدیہ رباعی تھی سے عید قربان ہے آج اسے تنویر مجھے پر ہے فضل رب سبحانی پیش کرتا ہوں رُوح و قلب و دماغ کاش منظور ہو یہ قربانی ١٣١٥ له حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے ۱۲ شہادت اپریل باد پیش کو خطبہ جمعہ کے دوران شیخ صاحب موصوت کے شامل احمدیت ہونے کا ذکر بایں الفاظ فرمایا۔بھی سیالکوٹ میں ایک دوست احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔شیخ روشن الدین صاحب تنویر ان کا نام ہے اور وکیل ہیں۔جب مجھے ان کی بیعت کا خط آیا تو میں نے سمجھا کہ کالج کے فارغ التحصیل نوجوانوں میں سے کوئی نوجوان ہوں گے مگر اب جو وہ ملنے کے لئے آئے اور شوری کے موقع پر میں نے انہیں دیکھا تو اُن کی ڈاڑھی میں سفید بال تھے۔میں نے چودھری اسد اللہ نعال صاحب سے ذکر کیا کہ میں سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان ہیں اور ابھی کالج میں سے نکلتے ہیں مگر ان کی تو ڈاڑھی میں سفید بال آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ تو دس بارہ سال سے وکیل ہیں۔پہلے احمدیت کے سخت مخالف ہوا کرتے تھے مگر احمدی ہو کر تو اللہ تعالٰی نے اُن کی کایا ہی پلٹ دی ہے۔الفصل"۔۱۵ امان / مارچ ش صفحه ۵۰۴ + کے " الفضل" ۲۱ شہادت / اپریل یہ پیش صفحه ۱۳ کالم ۲ :