تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 223
اور چالیس پچاس سید صاحبان کو لے آئے۔احمدیوں نے مسئلہ وفات مسیح پر گفتگو کے لئے کہا مگر انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے کوئی حضرت مینی کی وراثت تقسیم کرتی ہے ہمیں حضرت عیسی کی موت سے کیا تعلق اہم تو یہ ثابت کرنے آئے ہیں کہ مرزا صاحب مسلمان ہیں یا نہیں۔آخر لمبی گفتگو کے بعد سامعین کے اصرار پر قرآن مجید کی رو سے مسئلہ ختم نبوت پر مناظرہ کرنے پر رضامند ہو گئے۔فریقین نے اپنے اپنے صدر مقرر کئے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی محمد اعظم صاحب مولوی فاضل اور فریق ثانی کی طرف سے مولوی فیروز وین صاحب فاضل مدرسہ عثمانیہ مناظر قرار پائے۔مولوی محمد اعظم صاحب نے نہایت عمدگی کے ساتھ قرآن مجید سے ثابت کر دیا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد حضور کی غلامی سے فیض نبوت جاری ہے مگر مد مقابل عالم قرآنی دلائل کا کوئی جواب نہ دے سکے اور خلافت شرط صرف حدیث لا ی بعدی پر سارا زور صرف کرتے رہے۔بعد ازاں انہوں نے احمدی مناظر کی تقریرہ کے دوران شور ڈالنہ شروع کر دیا۔آخر کار قرآن و حدیث سے پیش شدہ دلائل کے سامنے جب بالکل عاجز اور بے لیس ہو گئے تو مناظرہ چھوڑ کر میدان مناظرہ میں اپنا جلسہ شروع کر دیا۔جماعت کی طرف سے اس وقت صدر مناظره محمد ملک صاحب پریزیڈنٹ جماعت احمدی دیوانی وال تھے۔انہوں نے درخواست کی کہ احمدی مناظر کو بھی اختتام جلسہ پر جواب دینے کا تھوڑا سا وقت دیا جائے مگر انہوں نے بالکل انکار کر دیا جس پر سب احمدی دوست واپس دیوانی وال آ گئے بلے مباحثہ غازی کوٹ (ضلع گورداسپور احسان جون پر بہش کو گورداسپور سے تین میل کے فاصلہ ١٩٤ پر واقع گاؤں غازی کوٹ میں تین مناظرے ہوئے۔طے شدہ شرائط کے مطابق پہلا مناظرہ ختم نبوت پر مولوی ابوالعطاء صاحب اور لال حسین صاحب اختر کے مابین ، دوسرا صداقت حضرت مسیح موعود پر مولوی دل محمد صاحب اور اختر صاحب کے مابین اور تمیر وفات مسیح پر مولوی ابوالعطاء صاحب اور حافظ محمد شفیع صاحب کے مابین ہو تا تینوں مناظروں میں احمدی علماء نے قرآن کریم اور حدیث شریف سے واضح استدال گئے اور اپنی تائید میں بزرگان احسان کے اقوال بھی پیش کئے مگر دوسرے علماء زیادہ تر حضرت مسیح موعود علی الصلاة والسلام کی بعض تحریروں کو غلط انداز میں پیش کر کے عوام کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے رہے مگر خدا کے فضل وکرم سے اس میں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔دوسرا مناظرہ شروع ہونے سے قبل لال حسین صاحب اختر نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نہ کی شان مبارک مین خواه مخواه بد زبانی شروع کردی جس پر احمدیوں نے احتجاج کیا اور صدر جلسہ مولانا ابوالعطاء صاحب نے پورے زور کے ساتھ مجسٹریٹ صاحب علاقہ کو (جو مناظرہ میں موجود تھے) تو بہ دلائی کہ اس شخص کو ان الفاظ کے واپس لینے پر مجبور له الفضل ۳۱ پیجرت منیش صفحه ۲