تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 222
۲۱۵ باری چاہ پرچے مولوی صاحب نے اور تین پرچے پنڈت صاحب نے لکھے اس کے بعد اسی روز 9 بجے شب مسجد اقصی میں حضرت میر صاحب کی صدارت میں ایک پبلک جلسہ منعقد ہوا جس میں احمدیوں کے علاوہ بہت سے آریہ صاحبان اور اور انزاری بھی شامل ہوئے اور حسب ترتیب، ساتوں پر چھے باری باری سنائے گئے بجلسہ گیارہ بجے ختم ہوا۔یہ مناظرہ اسی سال ویدوں میں احمد اور قادیان کے نام سے چھپ گیا تھا جس کا دیباچہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے تحریر فرمایا میں ۱ رامان / مارچ یہ ہش کو گوجرانوالہ شہر میں مولانا ابوالعطاء صاحب کا موادی احمدیانہ اس مباحثہ گوجرانوالہ سےمسئلہ اورمسلہ پر صاحب (غیر مبائع) سے مسئلہ کفر و اسلام اور مسئلہ نبوت پر کامیاب مناظرہ ہوا، اگرچہ باہمی فیصلہ کے مطابق مسئلہ خلافت پر بھی مباحثہ قرار پایا تھا۔گر غیر مبالعین نے کہلا بھیجا کہ وہ اس کے لئے تیار نہیں مجلس مناظرہ میں بعض غیر احمدی بھی شامل ہوئے تھے جنہوں نے مولا کا ابو العطاء صاحب کی علمی قابلیت اور شتہ حاضر جوابی کی تعریف کی اور غیر مبائع مناظر کی بے لسی، بے علمی اور کم حوصلگی پر اظہار نا پسندید کی کیا۔موضع دیوانی وال تحصیل بٹالہ کے قریب ایک گاؤں کوٹ گورایا مباحثہ کوٹ گوراب تحصیل بیان ضلع گورد اپلوی) ہے جہاں دیوانی وال کے بعض احمدی تبلیغ کے لئے گئے۔تبلیغ شروع ہوئی تو گاؤں والے مسانیاں کے ایک مخالف عالم مولوی فیروز الدین صاحب ، دو مدد گار علماء اور ایک حافظ قرآن لے افضل ۱۲ رمان ز مارچ به مش صفحه ۰۲ " سے بلدیہ گڑھ ضلع پوری اڑیسہ میں بابو بیراگی چون مصر صاحب نے جلسہ عام میں تسلیم کیا کہ دیر میں احمد اور قادیان کا ذکر ہے مگر ساتھ ہی عذر کیا کہ ابھی کلجگ پورا نہیں ہوا تو اونار کیسے آسکتا ہے ( افضل اور ہجرت امی سرمایش صفر ) پروفیسر عبداللہ ناصر الدین صاحب نے الفصل ۱۸ ہجرت امی یہ ہیں میں یہ جواب دیا کہ حضرت کرشن نے گیتا میں خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے کہ " لھوای یگے لگے " یعنی کوشن یگ کے دوران میں آتا ہے نہ کہ یگ کے خاتمہ پر ال اس سلسلہ میں پروفیسر صاحب کے ایک اہم مضمون کے لئے ملاحظہ ہو الفضل اور اجرا می ش ا) گه حضرت میر صاحب نے اپنے دیباچہ میں لکھا ” میرے نزدیک یہ بحث ہمارے نقطہ نگاہ سے کوئی اصولی بحث نہیں ہے اگر انھر و دید میں احمد کا نام یا قادیان کا لفظ ثابت نہ ہو تو اس سے ہمیں کوئی نقصان نہیں۔قادیان کی اہمیت یا احمد کی صداقت خود ان کے وجود سے ظاہر ہو رہی ہے۔اگر اتھرو ویدان کے ذکر سے خالی ہو تو کیا مضائقہ ؟ لیکن اگر یہ دونوں نام انفر و دید میں ثابت ہو جائیں تو آریوں پر بے شک یہ بڑی حجت ہے۔کیونکہ اگر ان کی الہامی کتاب احمد کے ذکر اور قادیان کے نام پر مشتمل ہو تو اُن کا فرض ضرور ہے کہ وہ ان کی صداقت کے قائل ہو جائیں" ر رسالہ ویدوں میں احمد اور قادیان" صفحہ ۲-۳ ) "الفضل و شہادت / اپریل ۳۱ بیش صفحه ۶ +