تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 3 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 3

اور پیغام خلافت کی کامیابی پر ہماری جماعت نے اس سال الحمد للہ کہا۔مگر باقی دنیا اور اسلام کی تعلیم میں ایک فرق ہے۔باقی دنیا الحمد للہ کو اپنی آخری آواز سمجھتی ہے مگر اسلام الحمد للہ کو نہ صرف آخری آواز قرار دیتا ہے بلکہ اس کو ایک نئی آواز بھی قرار دیتا ہے۔لہ۔۔- اس ایمان افروز تمہید کے بعد حضور نے بتایا کہ : پس یہ جو خوشی کا جلسہ ہوا اس نے در حقیقت ہماری ذمہ داریوں کو بہت بڑھا دیا ہے۔۔ایک خاص جلسے کے منانے کے معنے ہی یہ ہیں کہ وہ ایک منزل پر پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے کام میں ایک درجہ کو حاصل کر لیا ہے۔پس اس کے بعد ایک نئی ولادت کی ضرورت ہے گویا پہلا سلسلہ ختم ہوا۔اور اب ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا۔جیسے ایک دانہ بویا جاتا ہے تو اُس سے مثلاً ستر یا سو دانے نکل آتے ہیں۔اب ستر اور سو دانوں کا نکل نے اپنی ذات میں ایک بڑی کامیابی ہے مگر وہ پہلے بیج کا ایک تسلسل ہوتا ہے اور زمیندار اُسے کوئی نیا کام نہیں سمجھتا بلکہ وہ سمجھتا ہے میرے پہلے کام کا ہی سلسلہ جاری ہے۔لیکن جب زمیندار ان نئے دانوں کو پھر زمین میں ڈال دیتا ہے تو اُسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اب میرے کام کا نیا دور شروع ہوا۔۔۔۔۔اسی طرح جب ہماری جماعت نے اس جلسہ کو خوشی کا جلسہ قرار دیا تو بالفاظ دیگر انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہمارا پہلا بیچ جو بویا ہوا تھا اس کی فصل پک گئی۔اب ہم نیا بیچ ہو رہے ہیں اور نئی فصل تیار کرنے میں مصروف ہو ر ہے ہیں۔یہ اقرار بظاہر معمولی نظر آتا ہے لیکن اگر جماعت کی حالت کو دیکھا جائے تو اس اقرار کی اہمیت بہت بڑھ جاتی اور اس پر ایسی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ اگر اس کے افراد رات دن کو شش نہ کریں تو اس ذمہ داری سے کبھی عہدہ برآنہیں ہو سکتے۔اس پچاس سالہ دور کے متعلق ہم نے جو خوشی منائی ، ہمیں غور کرنا چاہیئے کہ اس دور کی پہلی فصل کس طرح شروع ہوئی تھی۔جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس پہلی فصل کا بیج صرف ایک انسان متھا۔رات کو دُنیا سوئی۔ساری دُنیا اس بات سے نا واقعت تھی کہ خدا اُس کے لئے کل کیا کرنے والا ہے۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ اللہ تعالے کی مشیت کل کیا ظاہر کرنے والی ہے۔یہ آج سے پچاس سال پہلے کی بات ہے کہ له " الفضل" ۲۵ جنوری ۱۹۷ صفحه ۰۴