تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 2 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 2

علاوہ ازیں اس سال متعدد ایسے اہم واقعات پیش آئے جو مستقبل میں بڑے دور رس نتائج کے معامل ثابت ہوئے اور بالآخر جماعت احمدیہ کی ترقی اور عروج کا موجب بنے۔یر کا ایک نہایت رنجیدہ اور تکلیف وہ پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اس میں حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب جلالپوری ، حضرت ماسٹر عبدالرؤف صاحب بھیروی ، حضرت مولوی امام الدین صاحب نے گولیکی حضرت میاں معراجدین صاحب عمر اور دوسرے کئی اکابر صحابہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشانوں کے عینی گواہ تھے ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔ہ کے واقعات و حوادث کا نہایت مختصر سا خاکہ پیش کرنے کے بعد اب اس سال کے تفصیلی امور پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔وَمَا تَوْفِيْعُنَا الَّا بِاللَّهِ الْحَةِ الْعَظِيمِ جماعت احمدیہ چونکہ مسلہ کی خلافت جوبلی کی عظیم است خلافت جوبلی سے پیدا شدہ نئی ذمہ داریوں تقریب کے بعد اپنی زندگی کے پہلے پنجاه سالہ دور سے کو پورے اخلاص اور جزیہ کیا ادا نے کی تین مار کر ان کی سفیدی میں داخل ہو چکی تھی اور ساتھ ہی الہی سنت و قانون کے مطابق نئی ذمہ داریوں اور نئے فرائض کا بار گراں بھی اس کے کندھوں پر آن پڑا تھا، اس لئے جو نہی یہ پُر وقار گر تصنع اور تکلف سے خالی اور اسلامی سادگی کا آئینہ دار روھانی جشن بخیر و خوبی ختم ہوا ، قافلہ احمدیت کے اولوالعزم سپہ سالانہ اور آسمانی قائد حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نے نہ کے آغاز میں ۱۲ صلح ۱۳۱۰ ه ش ر مطابق ۱۲ جنوری شاہ کو ایک نہایت پر معارف اور لطیف خطبہ خاص اسی موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں جماعت احمدیہ پر عائدہ ہونے والی نئی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے پہلے تو یہ بتایا کہ : دنیا میں جب کسی شخص کو کوئی خوشی پہنچتی ہے یا جب کوئی شخص ایسی بات دیکھتا ہے جو انس کے لئے راحت کا موجب ہوتی ہے تو اگر وہ اللہ تعالے پر یقین رکھتا ہے تو وہ ایسے موقعہ پر یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالے کا بڑا شکر ہے کہ ہم کو یہ بات محاصل ہوئی اور جب کسی مسلمان کو ایسی خوشی پہنچتی ہے تو وہ اس مفہوم کو عربی زبان میں ادا کرتا اور کہتا ہے الحمد للہ۔تو اس جلسہ پر ہماری جماعت نے جو خوشی منائی اس کا اگر خلاصہ بیان کیا جا تو وہ یہی بنے گا کہ پیغام نبوت