تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 218
۲۱۱ شامل کرنے کے علاوہ اسلامی شریت سے اس کا موازنہ بھی کیا گیا ہے اور احمدیہ عقائد اور بہائی عقائد کا مقابلہ بھی کیا گیا ہے۔رساله معارف دبابت ماہ فروری شاہ نے اس پر حسب ذیل ریویو کیا :- ابو العطاء صاحب نے اس کتاب میں خود بہائی لٹریچر اور ان کی کتابوں سے اس تحریک کی ای سی اور اس کے عقائد پر تبصرہ کر کے اس کی گمراہیوں کو آشکارا کیا ہے۔بہائیوں کی کتاب اقدس کا عربی متن بھی محمد ترجمہ کے دیدیا ہے۔کتاب مفید اور دلچسپ ہے لیکن ائق مصنف اپنے فرقہ کی تبلیغ سے نہیں چوکتے ہیں“ م مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے “ دمرتبہ جناب رحمت اللہ بیخان صاحب شاکر سٹنٹ ار الفضل یہ کتاب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تحریک پر لکھی گئی تھی۔اپنا نچھر اس کے دیباچہ میں آپ نے تحریر فرمایا کہ شاکر صاحب نے جس موضوع پر تسلم اُٹھایا ہے۔وہ ایک عرصہ دراز سے بلکہ طالب علمی کے زمانے سے میرے مدنظر تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ جب یہ خاکسار سکول کی نہم اور دہم جماعت میں تعلیم پانا تھا تو اس وقت ہمیں ایک انگریزی کی کتاب "گولڈن ڈیڈز " پڑھائی جاتی تھی جس میں حیض مغربی بچوں اور نوجوانوں کے سنہری کارناموں کا ذکر درج تھا۔مجھے اس کتاب کو پڑھ کر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ایک کتاب اردو میں مسلمان نوجوانوں کے کارناموں کے متعلق لکھی ہجائے جس میں مسلمان بچوں کے ایسے کارنامے درج کئے جائیں جو مسلمان نو نہالوں کی تربیت کے علاوہ دوس کار قوموں کے لئے بھی ایک عمدہ سبق ہوں۔یہ خواہش طالب علمی کے زمانہ سے میرے دل میں قائم ہو چکی تھی۔اس کے بعد جب میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا۔تو یہ خواہش اور بھی ترقی کر گئی کیوکو میں نے دیکھا کہ جو کارنامے مسلمان نوجوانوں کے ہاتھ پہ ظاہر ہو چکے ہیں۔وہ ایسے شاندار اور روح پرور ہیں کہ ان کے مقابل مسیحی نوجوانوں کے کارناموں کی کچھ کیسی حیثیت نہیں اور میں نے اراد کیا کہ جب بھی خدا توفیق دے گا میں اس کام کو کروں گا۔مگر افسوس ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک میری یہ خواہش عملی جامہ نہ پہن سکی۔بالآخر گذشتہ سال اللہ تعالٰی نے اس کی یہ تقریب پیدا کر دی کہ شیخ رحمت اللہ صاحب شاکر نے مجھ سے مشورہ پوچھا کہ میں آجکل رخصت کی وجہ سے فارغ