تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 219 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 219

۲۱۲ ہوں۔مجھے کوئی ایسا مضمون بتایا جائے ہمیں پر میں ایک مختصر کتاب لکھ کہا اسلام اور احمدیت کی خدمت کر سکوں۔اس پر میں نے شاکر صاحب کو اپنی یہ خواہش بتا کر یہ تحریک کی کہ وہ اس موضوع پر مطالعہ کر کے کتاب تیار کریں اور میں نے چند ایسی کتابوں کے نام بھی بتا دیئے جس سے وہ اس مضمون کی تیاری میں مدد لے سکتے تھے اور انتخاب وغیرہ کے متعلق بھی مناسب مشورہ دیا اور مجھے خوشی ہے کہ شاکر صاحب نے مطلوبہ کتاب کے تیار کرنے میں کافی محنت سے کام لے کر ایک اچھا مجموعہ تیار کر لیا ہے۔میں نے اس سارے مجموعہ بالاستیعاب نہیں دیکھا۔مگر بعض حصے دیکھتے ہیں اور بعض جگہ مشورہ دے کر اصلاح بھی کروائی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ کتاب نوجوانوں کے لئے مفید ثابت ہوگی " سے 2 - گورو گوبند سنگھ کے بچوں کا قتل (مؤلفه گیانی واحد حسین صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ ) حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضہ نے مجلس مشاورت ۱۹۳۷ٹہ کے موقعہ پر جماعت کے اہل قلم کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر علمی مذاق رکھنے والے لوگ اپنی فرصت کے اوقات میں کوئی کتاب ہی لکھ دیں تو اس میں کیا سمج ہے۔۔۔مگر یہ ضروری بات ہے کہ جو کتاب لکھیں وہ معقول ہو اور علمی رنگ میں لکھی گئی ہو۔۔۔۔۔مصلف دہ ہوں جو ہوش و حواس قائم رکھتے ہوں اور عقل و فکر سے کام لینے والے ہوں۔یہ بی ضروری نہیں کہ وہ کوئی ایسا فلسفہ نکالیں جس سے دنیا میں تہلکہ مچ جائے بلکہ ایسی باتیں لکھی جائیں جو عام سمجھ کے مطابق ہوں اور جن میں اسلام پر تو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا حل کیا گیا ہو مثلاً مورخین کی گنتا ہیں نہیں ان میں مسلمان بادشاہوں پر سخت ظلم کئے گئے اور ان پر نہایت گندے الزامات لگائے مثال کے طور پچہ کہتا ہوں۔اور نگ زیب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام متجدد۔۔۔گئے ہیں۔کہا کرتے تھے لیکن اور نگ زیب کی شکل تاریخوں میں نہایت ہی تاریک دکھائی گئی ہے۔۔بغرض تاریخوں میں مسلمان بادشاہوں پر بہت سے اعتراضات عائد کئے گئے ہیں۔ہماری جماعت کے مصنف اس طرف بھی توجہ کریں تو سلسلہ کے لئے مفید لٹریچر مہیا کر سکتے ہیں۔سے گیانی و احمد حسین صاحب کا یہ رسالہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رض کے مندرجہ بالا ارشاد کی تعمیل کی ایک کامیاب " نے بیانیہ سلم نوجوانوں کے سنہری کارتا ہے " صفحہ ۲۰۱ء کے رپورت مجلس مشاورت ۶۱۹۳۷ صفحه ۹۱۵۴۰۱۵۲