تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 173
جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ خدا تعالنے کی اصطلاح میں قرآن کریم کی اصطلاح میں اسلام کی اصطلانے میں سابق انبیاء کی اصطلاح میں اور نبی کے لفظ کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو جو حکم دیا تھا اس کے مطابق جو شخموں سے خیال کرتا ہے کہ نبی کی یہ تعریف ہے کہ جو شخص خدا تعالی سے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پاتا ہے وہ نبی ہے وہ غلطی خوردہ ہے اور اسلام کی تعلیم کے خلافت کہتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان طریقوں میں سے آپ کسی طریق کو بھی اختیار کرلیں۔فیصلہ تک پہنچنا آسان ہوگا۔وما علینا الا البلاغ المبين له اگر جناب مولوی محمد علی صاحب مندرجہ بالا پانچ طریقوں میں سے کسی ایک طریق ہی کو قبول فرما لیتے تو فریقین میں اختلافات کی خلیج یقیناً بہت کم ہو جاتی اور جماعت کی باہمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے کی بجائے بہت حد تک تبلیغ اسلام کے متحدہ مقصد کی تکمیل میں مرکوز ہو جاتیں۔مگر افسوس آپ اپنی گذشتہ روایات کے مطابق باہمی تصفیہ کی ان سیدھی، صاف اور آسان تجاویزہ کو بھی مختلف حیلوں بہانوں سے ٹال گئے مولوی محمد علی صاد کے ای مضمون جناب مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضا کے کی معدہ جواب الفضل میں اشاعت کرتے ہوئے لکھا کہ ایک خطبه جمعه و فرموده در احسان جون پر میش) کی طرف اشارہ میاں صاحب نے جو دلائل حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق دیئے ہیں۔ہمیں ان تمام کو قارئین پیغام کے سامنے لانے کو تیار ہوں بشرطیکہ جناب میاں صاحب میرے اس جواب کو جو اصل مضمون کے متعلق میں اب لکھتا ہوں اپنے اخبار الفضل میں شائع کرا دیں۔۔۔۔لیکن اس کے ساتھ میں یہ بھی کہ دیتا ہوں کہ میاں صاحب اس تجویز کو کبھی منظور نہ کریں گے۔اس کی وجہ ؟ اپنے مخالف کے دلائل کو اپنی جماعت کے سامنے لانے سے وہی شخص ڈرتا ہے جسے یہ خوف ہو کہ اس کی جماعت مخالف کے دلائل سے متاثر ہو کر پھسل جائے گی۔سو یہی خوف جناب میاں صاحب کے دل میں ہے۔۔۔۔۔منہ سے جناب میاں صاحب جس قدر بلند و عادی چاہیں کریں مگران له الفضل " مورخه هم از طهور / اگست ۱۳۳۰ بهش صفحه ۲۲ ۲۳ ۰ کے خطبہ کا عنوان تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق خدا تعالیٰ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محضر میچ موجود علیہ السلام اور خود مولوی محمد علی صاحب کی شہادت" " الفصل ۸ در احسان جون با منیش منه 7140