تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 174
146 کا طرز عمل یہ بتا رہا ہے کہ ان کا دل ہمارے دلائل کی مضبوطی کے خوف سے کانپ رہا ہے۔اور ان کے نزدیک اس کے سوائے اپنی جماعت کی حفاظت کا اور کوئی طریق نہیں کہ وہ ہمارے دلائل کو ان کے سامنے نہ آنے دیں - حضرت امیرالمومنین نے اپنے زمانہ خلافت میں کبھی غیر مبائین کا لٹریچر پڑھنے سے نہیں روکا تھا اور اس وقت تک اخبار " الفضل ، اخبار "فاروق" ، " تشيد الاذهان" ، " ریویو آف ریلیجینز (اردو) میں بہت سے مضامین شائع ہو چکے تھے جن کے لکھنے والے سینکڑوں افراد تھے جو متفرق مقامات کے رہنے والے تھے اگر حضرت امیر المومنین کی طرف سے ان کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کی ممانعت کر رکھی تھی تو انہوں نے ان لوگوں کے خلاف قلم کیسے اُٹھایا اور اپنے مضامین میں ان کی کتابوں، رسالوں اور پمفلٹوں کے حوالے کیسے درج کر دیئے۔مگر حضرت امیر المومنین رضہ کی فراعندلی اور وسعت حوصلہ ملاحظہ ہو کہ حضور نے مولوی صاحب کی یہ تجویز بھی مان لی اور فرمایا کہ میں ان کے مضمون کو "الفضل" میں شائع کرانے کو تیار ہوں بشرطیکہ وہ میرا جواب الجواب بھی پیغام صلح میں شائع کرائیں یا اگر وہ پسند کریں تو یہ سب یعنی میرا خطبہ ان کا جواب اور میرا جواب الجواب کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے جس پر خرچ دونوں کا آدھا آدھا ہو اور کتابیں بھی آدھی آدھی لے لیں۔اس سے بڑھ کر میں ان کے لئے ایک اور آسانی کر دیتا ہوں پہلے تو میں نے کہا تھا کہ وہ اگر میری اس تجویز کو مانیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ کی دونوں کی تحریریں اکھٹی شائع کر دی جائیں تو میں ان کی اس تجویز کو مان لوں گا۔مگر ان پر اتمام حجت کے لئے میں یہ بھی مان لیتا ہوں کہ چلوئیں اس کو بھی چھوڑ دیتا ہوں بشرطیکہ وہ میری اس تجویز کو مان لیں یعنی میرا جواب الجواب بھی ساتھ شائع ہو۔۔۔۔بلکہ ایک اور آسانی ان کے لئے پیدا کر دیتا ہوں۔اور وہ یہ کہ اگر وہ میرا جواب الجواب شائع کرنے پر تیار ہوں تو خرچ کے دو حصے ہم دے دیں گے اور صرف ایک حصہ وہ دیں اور دو حصے کتب ہم لے لیں اور ایک حصہ وہ۔اور میری طرف سے اتنی رعایتوں کے باوجود اگر وہ میری بات ماننے کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالے انہیں سچے ه "پیغام صلح ۱۲ جولائی ۲ مار منظر ۵-۰۶