تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 160
۱۵۳ خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر عطا فرمایا گیا بحضور خود ہی ارشاد فرماتے ہیں :- رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے کئی بطن ہیں۔ایک بطن تو قرآن کریم کا یہ ہے که کسی آیت کے معنی کرتے وقت اسکے سیاق وسباق کی تمام آیات کو دیکھا جاتا ہے اور اس کے معنی سیاق سباق کو مدنظر رکھے کئے جاتے ہیں۔کیونکہ اگر سیاق و سباق کو مد نظر نہ رکھا جائے تو معنوں میں غلطی کا امکان ہوتا ہے پھر ایک بطن یہ ہے کہ کسی آیت کے معنے کرتے وقت اس کے کچھ آگے آنے والی آیتوں اور کچھ پیچھے آنے والی آیتوں کو دیکھا جاتا ہے اور ان کے معنوں میں تطابق کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔پھر ایک بطن یہ ہے کہ جس آیت کے معنے مطلوب ہوں اس ساری سورۃ کو دیکھا جاتا ہے۔پھر ایک بطن یہ ہے کہ کئی سورتوں کو ملا کہ اس کے معنے اخذ کئے جاتے ہیں۔پھر ایک بطن یہ ہے کہ سارے قرآن مجید کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔یہ علم اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے عطا فرمایا ہے۔بعض دفعہ ایک مضمون کا تعلق ابتدائی سورتوں کے ساتھ ہوتا ہے اور بعض وفعد بعد والی سورتوں کے ساتھ۔پھر ایک معنے کسی آیت کے منفرداً ہوتے ہیں اور ایک معنے دوسری آیتوں کے ساتھ ملا کر کئے جاتے ہیں" لے چوتھی خصوصیت چوتھی خصوصیت تفسیر کبیر کی یہ ہے کہ اس میں روز روشن کی طرح ثابت کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کی بیان فرمودہ موسوی تاریخ ہی مستند ہے۔اور اس کے مقابلے میں بائیبل پر اعتماد کرنا کسی طرح درست نہیں۔پانچویں خصوصیت " تفسیر کبیر " عہد حاضر کی واحد تفسیر ہے جس میں نو لڈک تھیوڈرر NOLDEN۔THEODOR) ریورنڈ ویر کی (REVEREND YERE) ہے۔ایم راؤول (RODELL۔3) ترولیم میور ( SIRE WILLIAM MUIR ) اور آرنلڈ ) ARNOLD) وغیرہ مستشرقین کے اسلام اور قرآن مجید پر کئے ہوئے اعتراضات کے مسکت اور مدلل جواب دیئے گئے ہیں بلکہ اسلام کے بارے میں ان کی جہالت اور عربی زبان کی باریک خوبیوں سے محرومی بے نقاب کی گئی ہے۔چھٹی خصوصیت قرآن مجید چونکہ الہامی کتاب ہے۔اس میں ہر زمانہ کے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں۔ے تفسیر کبیر د سورة الشعراء صفحه ۴۸۳ کالم طا بطور مثال ملاحظہ ہو سورہ یوسف کی تفسیر