تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 131
۱۲۸ وہ لوگ جو میرے ساتھ کام کر رہے ہیں اور جن کا کام کتابت کا پیوں کی تصحیح کرنا اور مضمون صاف کر کے لکھنا وغیرہ ہے وہ بھی بہت محنت سے کام کہ رہے ہیں۔اتنی دیر تک روزانہ کام کرنے کی انہیں عادت نہیں پھر بھی ۲ - ۳ بجے رات تک کام کرتے ہیں ممکن ہے اس سے بھی زیادہ دیر تک کام کرتے ہوں مگر ۲ - ۳ بجے تک تو کئی دفعہ بات پوچھنے کے لئے میرے پاس آتے رہتے ہیں۔اسی طرح کا پیاں لکھنے والے کاتب ہیں۔بے شک وہ اُجرت پر کام کرتے ہیں مگر جس قسم کی محنت انہیں کرنی پڑتی ہے اور وہ کر رہے ہیں وہ اخلاص کے بغیر نہیں ہو سکتی۔روزانہ کام کیا جائے، معمول سے دگنا کیا جائے اور اچھا کیا جائے، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔کاتب کا کام آنکھوں کاتیل نکالنا ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک منٹ کے لئے بھی آنکھ اوپر نہیں اٹھ سکتا آنکھ کا غذ پہ اور قلم ہاتھ میں لے کر بیٹھا رہتا ہے اور بیٹھنا بھی ایک خاص طریق سے ہوتا ہے۔میں تو اس کام کے متعلق سمجھتا ہوں کہ عمر قید کی سزا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ کاتب لوگ بہت جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔کیونکہ کتابت کے کام میں انہیں سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔آنکھیں ہر وقت ایک ہی طرف لگی رہتی ہیں۔اس وجہ سے ان کی صحت ضائع ہو جاتی ہے۔ہم لوگ جو تصنیف کا کام کرتے ہیں۔اُن سے زیادہ وقت کام میں دیتے ہیں مگر اس حصہ میں ان کا کام زیادہ مشقت طلب ہوتا ہے۔ہم تو کبھی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔کبھی بیٹھ بھاتے ہیں کبھی کوئی حوالہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔کبھی لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر جو کچھ لکھتے ہیں وہ مضمون ہمارے ذہن میں ہوتا ہے۔اگر ہم آنکھیں بند بھی کرلیں تو لکھ سکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ سطریں ٹیڑھی ہو جائیں گی۔مگر کا تب بیچارے کو دو طرف نظر رکھنی پڑتی ہے۔ادھر وہ ہمارے لکھے ہوئے کو دیکھتا ہے اور اُدھر کاپی پر نظر جمائے رکھتا ہے۔پھر ہم تو جو چاہیں لکھتے جائیں لیکن کا تب کو اجازت نہیں ہوتی کہ اپنی طرف سے کچھ کرے۔اور کاتبوں کا اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ مضمون میں دخل دے سکیں “۔۔۔۔اس وقت جو کا تب کام کر رہے ہیں ان پر کام کا بڑا ہار ہے۔کا تب اگر اچھا لکھے تو تو ۶ سے ۸ صفحے روزانہ لکھ سکتا ہے۔مگر اب کام کی زیادتی کی وجہ سے ۱۲ سے ۱۶ صفحے تک روزانہ ایک ایک کا تب سے لکھوایا جا رہا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کریں تو کام جلسہ تک ختم نہ ہو سکیگا •