تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 130 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 130

۱۲۷ جب دوسرے مقدام کی مصروفیت ، استغراق اور انہماک کا یہ عالم ہو۔کہ وہ دن رات خدمت قرآن میں مصروف ہوں تو آقا کی محنت اور ر امیرالمومين البيتا مایه ورودی است خدمات قرن میں ہوں مجابهة عرقریزی کس درجہ پہنچ چکی ہوگی ؟ اس کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں حق یہ ہے کہ ایک روھانی جو نبیل حتی المقدو جس شان سے علمی جہاد میں حصہ لے سکتا ہے اس شان کا حقیقی رنگ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے وجود مبارک میں ان دنوں پوری طرح جلوہ گر تھا۔حضور کو صبح آٹھ بجے سے لے کر رات کے پچار پانچ بجے تک منہمک رہنا پڑتا تھا۔چنا نچہ حضرت سیدہ ام متین صاحبہ فرماتی ہیں :- قرآن مجید سے آپ کو جو عشق تھا اور جس طرح آپ نے اس کی تفسیریں لکھ کر اس کی اشاعت کی رہ تاریخ احمدیت کا ایک روشن باب ہے۔خدا تعالے کی آپ کے متعلق پیشگوئی کہ کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی جن دنوں میں تفسیر کبیر لکھی نہ آرام کا خیال رہتا تھا نہ سونے کانہ کھانے کا بس ایک دھن بھی کہ کام ختم ہو جائے۔رات کو عشاء کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی اذان ہو گئی" دُعائے خاص کی تحریک اگر چہ حضرت خلیفتہ امیع الثانی کو سلسل محنت اور جانفشانی سے کام کرنے کی ایک اعجازی طاقت و قوت حاصل تھی مگر ان دنوں حضور پر اتنا بوجھہ آن پڑا کہ حضور نے ۱۳ ماہ فتح اردسمبر کو تفسیر القرآن کی تکمیل کے لئے خطبہ جمعہ میں خاص طور پر دعائے خاص کی تحریک فرمائی۔اور اس میں اپنی اور دوسرے کام کرنے والوں کی غیر معمولی محنت و مشقت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ "1 میری طبیعت کچھ دنوں سے زیادہ علیل رہتی ہے اور چونکہ قرآن شریف کے ترجمہ اور تفسیر کے کام کا بہت بڑا بوجھے ان دنوں ہے اور جبلہ تک دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔مگر ابھی کوئی ایک سو صفحہ کتاب کا یا چار سو کالم مضمون کا لکھنا باقی ہے اور آجکل اکثر ایام میں رات کے ۳-۴ بلکہ بجے تک بھی کام کرتا رہتا ہوں۔اس لئے اس قسم کی جسمانی کمزوری محسوس کرتا ہوں کہ اس قدر بوجھ طبیعت زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی۔چونکہ جلسہ تک دن تھوڑے رہ گئے ہیں اس لئے دوستوں سے چاہتا ہوں کہ دُعا کریں اللہ تعالے خیریت سے اس کام کو پورا کرنے کی توفیق دے۔M "الفضل " ۲۵ رامان / مارچ ش صفحه ۵ کالم ۱ ۴۵ -79۔47