تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 116
١١٣ شائع کیا جس میں اصل واقعات اور ان کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی تھی۔اس اہم انٹرویو کا ایک حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔میں گذشتہ پندرہ سال میں متواتر ضلع گورداسپور کے دیہات کا دورہ کرتا رہا ہوں اور مختلف دیہات میں میرے لیکچر ہوتے رہے ہیں جن کی تعداد ایک سال میں اوسطاً پچاس تک رہی ہے۔لیکن پولیس ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کر سکتی جس سے ثابت ہو کہ میں نے کبھی سکھوں ؟ مسلمانوں یا سکھوں اور احمدیوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا۔اس کے برعکس میں نے ہمیشہ انہیں آپس میں پُر امن اور محبت سے رہنے کی تلقین کی۔پولیس میری تقریروں کو نوٹ کرتی رہی ہے۔اور وہ دیکھ سکتی ہے کہ میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے مسلمانوں یا احمدیوں کو سکھوں کے خلاف مشتعل کیا گیا ہو۔ہاں میں سکھ اور مسلمان دیہاتیوں کو یہ تلقین کرتا رہا ہوں کہ سودی لین دین سے پر ہیز کیا جائے اور ساہوکاروں کے پنجے سے بھیں بلاوہ ازی قانون انتقال اراضی کی بعض دفعات کی وضاحت کی جاتی رہی ہے تا عوام اس سے فائدہ اُٹھائیں۔نیز میں عوام کو یہ بھی کہتا رہا ہوں کہ بدمعاشوں کے خلاف پولیس کی امداد کی بجائے تا گاؤں کے پر امن لوگ نقصانات سے بچ جائیں۔علاوہ ازیں جنگی امداد کی تحریک کرتا رہا ہوں اور حضرت امام جماعت احمدیہ کے جنگی امداد سے متعلق خطبات کو دیہاتیوں تک پہنچاتا رہا ہوں۔شرارت کے وجوہ کے ذکر میں بجناب چوہدری صاحب نے فرمایا۔میں سمجھتا ہوں کہ میرے خلاف ایجی ٹیشن پھیلانے والے دو طبقے ہیں۔اول پولیس کا رشوت خور عنصر اور دوسرے ساہو کا طبقہ۔ظاہر ہے کہ ان ہر دو گروہوں میں انسانی ہمدردی کا جذبہ بالکل مفقود ہوتا ہے۔اور اب چونکہ یہ عناصر تختم ہونے پر نہیں اس لئے انہیں گھبراہٹ ہو رہی ہے۔آپ نے فرمایا۔مجھے اس بات سے سخت رنج ہے کہ میرے سکھ دوستوں میں میرے خلاف پروپاگنڈہ کر کے خطرناک قسم کی باطنی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن میں اس کے متعلق فی الحال صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں اور سکھوں میں جو بھاٹ قوم کا حصہ ہے اُن کو یقین دلاتا ہوں کہ میری تکالیف کی اصل وجہ زمینداروں کی خیر خواہی ہے خواہ وہ مسلمان