تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 115
١١٢ سرکلر یقیناً اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے خلاف ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت کارروائی کی بجائے" سے ފ حلة كات " ۲۴ اخبار الفضل "چیلنج اخبار الفضل " وہ ہجرت معنی ہیں نے اخبار پرتاپ" اور اس کے ہم نوا دوسرے اخباروں کو جو مسلسل تردید کے باوجود غلط بیانی اور مغالطہ انگیزی سے باز نہیں آرہے تھے، کھلا انعامی چیلنج کیا کہ اگر وہ اس نام نہاد سرکلہ کی کاپیاں بہیت کر دیں تو انہیں ہر کاپی پر سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔مگر ایسا کوئی سرکلر تھا ہی نہیں تو وہ کہاں سے لاتے۔اور جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے وضاحت فرمائی کہ و اگر کوئی ایسا سر کار بھیجا جاتا تو وہ ناظر امور عامہ کی طرف سے ہونا چاہیئے تھا نہ کہ ناظر اعلئے کی طرف سے۔ہمارے نظام کے لحاظ سے اس کا تعلق ناظر امور عامہ سے ہے ناظر اعلیٰ سے نہیں یہ امر بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسا کوئی سرکلہ ہے ہی نہیں۔ناظر اعلی تو آئینی لحاظ سے ایسا مرکز بھیجنے کا مجاز ہی نہیں۔ناظر اعلیٰ کی طرف سے ایسے سرکلر کا بھیجا جانا تو ہمارے کانسٹی ٹیوشن کے ہی خلاف ہے۔اگر ایسا سر کلر بھیجا بجاتا تو ناظر امور عامہ کی طرف سے بھیجا جاتا۔پس یہ بات سرے سے بناوٹی ہے۔سکے اب حقیقت پوری طرح کھل چکی تھی۔مگر چونکہ جماعت احمدیہ کی مخالفت سرکلر کا دوبارہ شاخسانہ کرنے والے ہندو سکھ اور کانگریس نواز عناصر کا مقصد جماعت احمدیہ کو بدنام کر کے اسے عوام اور حکومت کی نظروں میں گرانا اور نقصان پہنچانا تھا۔اس لئے کچھ عرصہ کے بعد اس مفروضہ سرکلر کا شاخسانہ دوبارہ کھڑا کر دیا گیا۔اور اس دفعہ اس پراپیگینڈے کا آغاز حکومت کے ایک آفیسر یعنی سردار بچن سنگھ سب انسپکٹر پولیس بٹالہ کی طرف سے کیا گیا اور حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ناظر اعلیٰ کے خلاف اس زور اور شدت سے افواہیں پھیلائی گئیں کہ حکومت کے بعض وزرا بھی خلافی کا شکار ہو گئے اور جماعت احمدیہ کی نسبت بدگمانیوں کا دروازہ پہلے سے بہت زیادہ وسیع ہو گیا۔جب صورت حال اس درجہ پیچیدہ ہو گئی تو نمائندہ الفضل نے چودھری فتح محمد صاحب کا مفصل انٹرویو بحوالہ " الفصل ۲۴ ہجرت مئی م مر ہی صفحہ کالم ۳-۴ : ۶۱۹۴۱ 71957 ے " لفضل میکم ماه احسان احون مش صفحه ۵ کالم ۳ - ۴ :