تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 114
مجلسی جلسے بھی منعقد نہ کر سکے مگر قادیانی اصحاب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک علیحدہ سٹیٹ بنانے کے متعلق ان کے خواب پورے نہیں ہو سکتے۔یہ بیسویں صدی ہے۔اس میں اس قسم کی مطلق العنانی نہیں نکل سکتی ہے فتنہ دوسری شکل میں چند ماہ بعد فتنہ نے یک نئی کروٹ لی ہوا یہ کہ سکھوں کے ایک اخبار شیر نجاب نے ۲۷ اپریل شاہ کے پرچہ میں ” قادیان میں فرقہ وارانہ جنگ کی تیاریاں" کے عنوان سے چودھری فتح محمد صاحب سیال کی 11 کی ایک ذاتی یاداشت کو " گشتی پھٹی اور ایک شقیہ سرکہ کا نام دے کر لکھا کہ جماعت احمدیہ کے ناظر اعلیٰ نے ایک خفیہ سرکلو یاگشتی مراسلہ احمدیوں کو بھیجا ہے جس میں فرقہ وارانہ جنگ کے لئے تیاری کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔منافرت پھیلانے کی یہ ایک خطرناک کوشش تھی جس کا سدباب کرنے کے لئے اخبار الفضل نے ۳، ۷ار ہجرت مئی یہ مہش کی اشاعتوں میں پر زور اداریے لکھے اور بتایا کہ جماعت احمدیہ کے ناظر اعلیٰ نے ایسا کوئی مراسلہ جاری نہیں کیا اور جو تحریر سر کو قراردی جارہی ہے وہ حضرت چوہدری صاحب کے محض پرائیویٹ اور ذاتی نوٹ تھے جو حفاظت قادیان" کے عنوان سے اُس زمانہ میں لکھے گئے جبکہ سکھوں نے ، اگست کو پولیس کی موجودگی میں مربع گرا دیا تھا اور قادیان پر حملہ کر کے اُسے ٹوٹ لینے کی دھمکیاں دی تھیں۔چوہدری صاحب نے از خود چند حفاظتی تھے وہ کاغذ کے ایک پرندہ پر لکھیں جونہ شائع ہوئیں نہ کہیں بھیجی گئیں۔نہ ان پر کوئی عملدرآمد ہوا۔کاغذ کا یہ پردہ کسی طرح مصری پارٹی کے ہاتھ آگیا۔یہ لوگ پہلے تو عام سکھوں کو یہ کا منہ دکھاتے رہے مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا۔البتہ سکھ اخبار شیر پنجاب نے اُسے خوب اچھالا اور ہندو اور مسلمان اخباروں میں اس کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ہندو پریس جو اُن دنوں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بہت پیش پیش تھا۔رالفضل کی تردید کے باوجود ) برامہ اس کی اشاعت کرتا رہا۔بلکہ اخبار " پرتاپ " ۲۳۱ مئی الہ نے تو حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ "کیا وہ خفیہ سر کر جو جماعت احمدیہ کے صدر مقام سے احمدیوں کے نام بھاری ہوا ہے پنجاب گورنمنٹ کی نظر سے گزرا ہے ؟ اور گزرا ہے تو اس نے اس بارہ میں کیا کارروائی کی ہے۔یہ بحواله الفضل صلح جنوری له میش صفحه 1 : ۱۳۲۰ ۱ / سلالالالاليم ے اس واقعہ کی تفصیل " تاریخ احمدیت جلد ششم (صفحہ ۱۶۹-۱۷۱) میں موجود ہے : " الفضل " یکم احسان / چون " ستہ ہیں ١٩٤ صفحه