تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 169
۱۶۲ جیل کے سارے ہی قیدی مجھ سے بڑی محبت اور عقیدت سے پیش آتے تھے۔اگرچہ پہرہ والوں کے سوا مجھ سے کوئی نہ مل سکتا تھا۔ان وجوہ سے حکام کے علم میں آئے بغیر میرے خطوط قادیان کو پوسٹ ہو جاتے تھے لیکن جو خطہ قادیان سے آتا تھا وہ بہر صورت جھیلہ کے علم میں آنا ضروری تھا۔جب قادیان سے بیعت کا فارم آیا تو جیل میں بڑی گڑ بڑ ہوئی۔راز باقی نہ رہ سکا۔کمرہ کی صفائی کرنے والے قیدی ، کھانا پہنچانے والے ، اخبار لانے والے وغیرہ وغیرہ کسی نہ کسی بہانے آتے اور مجھ سے پوچھتے کہ کیا آپ قادیانی ہو گئے ہیں؟ میں انہیں غلط نہ کہہ سکتا تھا۔لیکن ابھی چونکہ میں نے بیعت نہیں کی تھی اس لئے میں اُن سے کہتا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔بالآخر جیلہ میرے پاس آئے اور میرا خط معہ بیعت فارم کے اُن کے پاس تھا مجھ سے بڑی ہی ہمدردانہ گفتگو کی کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔قرآن کی اس تفسیر کو چھوڑیئے میں آپ کو مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا مودودی کی تفسیر قرآن دیتا ہوں آپ کے خیالات ٹھیک ہو جائیں گے۔چنانچہ انہوں نے وہ دو تو تفسیریں لا دیں جو اصل میں ترجمہ تھے اور کہیں کہیں تفسیر تھی۔بیعت کا فارم تکمیل کر کے بھیجنے سے قبل میں نے ان دونوں تفاسیر کا مطالعہ کیا۔تفسیر کبیر کے طالب علم میں اتنی اہمیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دیگر تمام تفاسیر پرتنقید کر سکے۔چنانچہ میں نے جیلہ صاحب کو بتلایا کہ ان دونوں تفاسیر میں کون کون سے مقامات مہم میں کہاں کہاں ترجمہ کی غلطی ہے اور کہاں کہاں معنی محدود ہیں۔مجھے ایسا کرنے میں آسانی اس لئے ہرونی کہ تفسیر کبیر میں لغت قرآن بھی موجود ہے۔لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَرُونَ۔صرف مطہر لوگ ہی قرآن کریم کے مطالب کو سمجھ سکیں گے۔چیلر صاحب ۲۴ گھنٹے اپنے سرکاری فرائض میں مشغول رہتے۔قرآن کریم کو دیکھنے کا بھی نہیں موقعہ نہ ملتا۔میری بات میں انہوں نے دلچسپی نہ لی۔پھر میں نے جیلر صاحب کو تفسیر کبیر کی پہلی جلد دی اور اُن سے درخواست کی کہ وہ کم از کم اس میں سے سورۃ فاتحہ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں جو بہ مشکل (۵۰) صفحات پرمشتمل ہے۔وہ لے گئے لیکن چند دن کے بعد یہ کہہ کر واپس کر گئے کہ مجھے تو پڑھنے کی فرصت نہ ملی۔البتہ میری خوشدامن صاحبہ یہ کتاب دیکھ چکی ہیں وہ اس کی بڑی تعریف کرتی ہیں میں نے بیعت کا فارم پر کر کے بھیج دیا۔یہ تفصیل آپ کی خدمت میں اس لئے لکھی کہ مجھ پر سے یہ الزام دورہ ہو جائے کہ میں نے بیت