تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page ix
جمعہ میں اپنے رنج کا اظہار کرنا شروع کیا ہے جس کے ساتھ مجھے کسی قدر ہمدردی بھی ہے لیکن اب وہ بہت کچھ کہہ چکے ہیں بیت معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ سلسلہ ختم کیا جائے۔ظفر اللہ خان تو مجھ سے آپ کیا چاہتے ہیں ؟ سر سر مرٹ ایمرسن، تم اپنا اثر استعمال کر کے اس قضیے کو ختم کرا دو۔ظفر اللہ خان میں کس حیثیت سے اس معاملے میں دخل دے سکتا ہوں ؟ آپ ابھی فرما چکے ہیں کہ جہانتک سلسلے کا تعلق ہے آپ امام جماعت حمدیہ کے علاوہ کسی اور فرد و کسی حیثیت سے بھی سلسلے کا ماندہ تسلیم نہیں کرتے۔خاکسار و جناب امام جماعت احمدیہ نے اپنی نمایندگی کرنے کا فخر نہیں بخشا۔سر سر بریٹ ایمرسن تمہیں ہر صورت اس معاملے میں دلچسپی تو ہے اور تم ضرور چاہتے ہو گے کہ یہ قضیہ ختم ہو۔فر اللہ خان جیسی ہی نہیں میرے لئے یہ امرد درجہ کا موجب ہے کیو نے باجاجات وسیلے کی تین کی سکی کر ہر بوٹ ایمرسن۔یہ تو بہت سنجیدہ الزام ہے۔ظفر اللہ خان۔واقعات شاہد ہیں۔اس مرحلہ پر خاکسار نے واقعات پر مختصر تبصرہ کر کے الزام ثابت کرنے کی کوشش کی سر پر روٹ نے بات تو تحمل سے سن لی لیکن کہا آپ ضرورت سے زیادہ ذکی الس ہو رہے ہیں۔خاکسار نے کچھ جوش میں کہا بجا ہے۔جہاں ایسی اقدار اور ایسی سنیوں کا تعلق ہوجو انسان کو جان سے عزیفہ ہوں وہاں انسان ان کی نظر میں جنہیں ایسی کوئی وابستگی نہ ہو ضرورت سے زیادہ ذکی الحس نظر آتا ہے۔اس مرحلے پر خاکسار اجازت لے کر رخصت ہوا۔دوسرے دن گورنر صاحب نے پھر پیغام بھیجکر بلوایا اور کہا کچھ تدبیر ہونی چاہیے میں نے دریافت کیا، کیا تدبیر ہو انہوں نے بنایا کہا تم مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر میری طرف سے کہو کہ وہ اپنا نقطہ نظر سیلک میں واضح کر چکے ہیں اور مجھے ان کے پنج ہیں ہمدردی ہے۔اب خطبات کا یہ سلسلہ بند ہو جائے تو مناسب ہے میں نے کہا میری نگہ میں حکومت کو کم سے کم یہ تو تسلیم کرتا چاہیے کہ نوٹس امامجماعت احمدیہ کے نام جاری نہیں ہونا چاہیئے تھا۔بفرض محال اگر کوئی قانونی ذمہ داری تھی بھی تو وہ سلسلہ کے افر کی تھی جس کی طرف سے پیٹیاں جلی ہوئی تھیں گور صاحے کا ہے اور یہی تسلی کرلے لیکن اس بات کو ظاہر کی ہے خاکسار حضرت خلیفہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور جو بات چیت گور نر صاحب کے ساتھ ہوئی تھی حضور کی خدمت اقدس میں گذارش کردی بضور نے فرمایا مجھےحکومت کو دق کرنا زاد نہیں لیکن میں یہ تو نہیں کرسکتا کہ حکومت کی طرف سے خفیہ بستی دیے جانے ای کیک خاموش ہو جاؤں۔مجھے توسیلے کا احترام اور وقار مطلوب ہے، اگر میں بغیر کسی اعلان یا اظہار کے خاموش ہو جاؤں تو اس سے تو سلسلے کے تار و پہلے کی نسبت زیادہ مت چاہ یہی فرض کیا جائیگا کہ مودی نے مجھے دھمکی دے کر خاموش کر دیا۔مجھے کم سے کم