تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page viii of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page viii

بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَحْمَدُهُ وَصَلى عَلَى رَسُولِهِ الكونية تاریخ احمدیت کی آسٹرین جلد در قم فه رموده مکرم و محترم چودهری معروف شیشه نام سالی) الحمدللہ کہ تاریخ احمدیت کی آٹھویں جلد طبع ہو کہ اشاعت کے قریب پہنچ چکی ہے۔اس جلد میں ہے کے آخر سے لے کر نہ کے آخر تک کے واقعات درج ہیں، گویا اس مجلد کے ساتھ سلسلہ احمدیہ کی پہلی نصف صدی کی تاریخ کی تکمیل ہوتی ہے۔خاکسار کو ابھی اس جلد کے مطالعہ کا موقعہ تو نہیں ملا لیکن اس میں شنک نہیں کہ تاریخی لحاظ سے اس جلد کی اہمیت کسی پہلی جلد سے کم نہیں۔جلد ہفتم کے ہن میں ان افسوسناک اور عبرت انگیز واقعات کا ذکر ہے جو حکومت پنجاب اور مجلس احرار کی نفقه فیت کے نتیجے میں سلسلہ احمدیہ کے لئے نازک صورت اختیار کر گئے احرار کا نفرنس کے دوران میں شاک رانگستان میں تھا۔ویر میں واپس اہور پہنچا ایک رات اور نظر کہ دوسری صبح قادیان حاضر ہوا اور ای شام بورنوٹ آیا تخمینی وارات ا علم خاکسار کو قادیان میں حضرت خلیفہ مسیح ثانی کی زبان مبارک سے حاصل ہوا جناب میاں سر فضل حسین صاحب کا تو بھی پیغام حضور کی خدمت میں پہنچا وہ خاکسار کے توسط سے نہیں پہنچا تھا۔خاکسار انعوقت تک ابھی انگلستان میں تھا۔قادیان سے واپسی کے دوسرے دن سر پر بٹ ایمرسن گورنر پنجاب کا پیغام خاکسار کو ملا کہ وہ خاکسار کی ملاقات کے تحتی ہیں۔یہ علاقات دو گھنٹے تک جاری رہی، گورز صاحب نے تفصیل اپنا نقطہ نظر بیان کیا، خاکسارخاموشی سے سنتا رہا جب دہ بیتابیاں ختم کر چکے جب بھی خاکسار خاموش رہا۔انہیں توقع ہوگی کہ خاکسار اپنی طاقت سے کس دارائے کا اظہار کرے اور بنا کسانہ کوئی غرض لے کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوا نہیں تھا۔ان کی خواہش کی تعمیل میں مضر ہو گیا تھا۔ڈاکار کو بالکل خاموش پا کر انہوں نے پھر اپنی ی تقریر کو مقصرطور پر دوہرایا اور آخرمیں کہامیں تسلیم کرتاہوں کہ اتار کو قادیان میں کانفرنیں کرنے کی اجازت دینا غلطی تھی انہوں نے اس موقعہ سے بہت بیجا فائدہ اُٹھایا اور اُسے صرف سلسلہ اور بائی سلسلہ کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا مرزا صاحب کے احساسات اور جذبات کو جو د ہ پہنچا ہے اس کا بھی میں اندازہ کرسکتا ہوں۔انہوں نے چند ہفتوں سے اپنے خطبات