تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 45
تعلیم پر صحیح طور پر عمل کر کے اللہ تعالے کا قرب پانے والے اور دوسروں کو خدا تعالیٰ کے قریب لانے والے ہوں۔یہ بھی پوست کے بھائیوں کی طرح بضاعة مزجاة لائے ہیں۔خدا تعالیٰ ان سے بھی وہی سلوک کرے اور انہیں اسلام کا یوسف گم گشتہ ملادے جسے یہ اپنے یعقوب (محمد صل اللہ علیہ وسلم ) کے پاس لاکر اپنی قوم کی گذشتہ کوتاہیوں کی تلافی کر سکیں۔، بیرون ہند کی بعض اور مخلص جماعتیں جماعت احمدی حیفا کے معا بعد آبادان (ایران) عدن لنڈن ، بغداد ، کمپالہ ، زنجبار، دار السلام ، ٹانگا نیز بی سرپایا، جاوا ، کولمبو کی طرف سے نہ صرف اخلاص و ایثار سے لبریز خطوط حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کے حضور پہنچے بلکہ چندہ کے وعده جات بھی ملے اور نقد رقوم بھی ہے جماعت احمدیہ نے تحریک جدید کے مالی جہاد میں پر جوش حصہ دوسرے مطالبات اور جماعت احمدیہ لینے کے علاوہ دوسرے مطالبات پر بھی شاندار طورپر لبیک کہا۔سادہ زندگی مثلا تحریک جدید کا سب سے پہلا مطالبہ جو اسلامی تمدن کی عمارت میں بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے سادہ زندگی کا مطالبہ ہے۔جماعت کے مخلصین نے اس مطالبہ کے مطابق کھانے الباس ، علاج اور سنیما وغیرہ کے بارہ میں اپنے پیارے امام کی ہدایات کی نہایت سختی سے پابندی کی۔کھانے کے تکلفات یکسر ختم کر دیئے۔بعض نے چند سے زیادہ لکھوا دیئے۔اور دو دو تین تین سال تک کوئی کپڑے نہیں بنوائے سکے اکثر نوجوانوں نے سنیما، تھیٹر سرکس وغیرہ دیکھنا چھوڑ دیا اور بعض جو کثرت سے اس کے عادی تھے اس سے نفرت کرنے لگے معرض حضرت خلیفہ ایسی الثانی کی آواز نے جماعت میں دیکھتے ہی دیکھتے ایک زیر دست انقلاب برپا کر دیا۔جو دوسرے لوگوں کی نگاہ میں ایک غیر معمولی چیز تھی۔چنانچہ اخبار" رنگین (امرتسر) کے سکھ ایڈیٹر ارجن سنگھ عاجز نے لکھا کہ : احمدیوں کا خلیفہ اُن کی گھریلو زندگی پر بھی نگاہ رکھتا ہے اور وقتاً فوقتاً ایسے احکام صادر کرتا رہتا ہے جن پر عمل کرنے سے خوشی کی زندگی بسر ہو سکے۔میں یہاں اُن کے خلیفہ کے چند احکام کا ذکر کرتا ہوں جن سے له افضل ، فروری ۱۹۳۵ او صفحه ۳ و ۰۴ ۲ " الفضل " ۱۲ مارچ ۱۹۳۵ : صفحہ ۸ بیرونی جماعتوں کے بعض غرباء نے اس موقعہ پر اخلاص و ایثار کے قابل تقلید نمونے دکھائے مثلا بیرون ہند کی ایک خاتون نے دو برس تک چکی پیس کر تحریک جدید کا وعدہ پورا کیا " الفضل ۱۷ مارچ ۱۹۳۶ از صفحه در کالم ۱-۲ سے افضل د دسمبر دار صفحه 1 ه الفضل " ارجون ۳ صفحه ۹ کالم ۲